1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

انسان اور اللہ کی زات

غلام نبی قادری نوری سنی نے 'متفرق مقالات وتحاریر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اکتوبر 7, 2019

  1. ‏ اکتوبر 7, 2019 #1
    غلام نبی قادری نوری سنی

    غلام نبی قادری نوری سنی رکن ختم نبوت فورم

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    جیسا کہ اب سلسلہ مضامین تربیت و اگہی شروع کیا ہے جس میں ہم بنیاد پر بات کرنے کی جسارت حاصل کررہے ہیں ، یہ پورا سلسلہ مختلف محققین ، نفسیاتی ماہرین مذہبی مختلف نظریات و مشاہدات کی روشنی میں تشکیل دیا جارہا ہے جس میں آپ تائید و تنقید کا حق رکھتے ہیں لیکن اس سلسلہ سے جڑے رہنے کے لیے اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہیے ۔۔ اللہ عزوجل ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھتے ہوئے اگہی سے علم تک پہنچنے کی توفیق بخشتے ہوئے ماحاصل علم پر عمل کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں انسانیت کی مخلص خدمت کی توفیق دے
    کیونکہ آج کل کا انسان روئے زمین پر تاریخ انسان کے سب سے حیرت انگیز دور سے گزر رہا ہے ، ہوسکتا ہے کہ آئندہ کی سیچویشن اس سے بھی گراں ہو، یہ ٹیکنالوجی کا دور ہے ، زمیں پر جتنی بھی گزشتہ تہذیبی گزری ہیں ان میں سے سب سے زیادہ سہولت ، کشائش اور سب سے زیادہ ترقی بلاشبہ ہماری تہذیب میں ہے ، لیکن یہ بھی ایک ناقابل فراموش حقیقت ہے کہ اس قدر ترقی جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہونے کے باوجود موجودہ دور کے انسان سے زیادہ پریشان ، غیر محفوظ ، دباو اور اینگزائنٹی کا شکار کوئی اور تہذیب اس سے پہلے نہیں گزری ، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس قدر تیز رفتار ترقی کے بعد دنیا امن کا گہوارا بن جاتی مگر ہم نے دنیا کو کیا بنا دیا ہے ، ہر طرف مادہ پرستی دکھائی دیتی ہے، غربت افلاس رنج غم جنگ و جدل کا راج ہے ، مسلمانوں کے زوال اور پستی کی خوفناک گھاٹیاں ، رزق حرام ، زنا کا عام ہونا الیکٹرونک و پرنٹ میڈیا کا لوگوں کے زہنوں پر قابو پالینا ، موسموں میں غیر فطری تبدیلی ۔۔۔۔ یہ سب کیا ہے ،؟ کیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی انسان کو پاگل پن کی طرف لے جارہی ہے ۔ ایسا پاگل پن کہ جس میں مبتلا ہوکر انسان اپنی ہی دنیا کو برباد کرنے پر تُلا ہوا ہے ، ہر آدمی نفسیاتی مریض بن کر رہ گیا ہے ، ایک چلتی پھرتی لاش جس کا ایک ہی مقصدہے مزید پیسہ مزید دولت مزید گاڑیاں مزید کاروبار جس کے نتیجے میں ڈپریشن ٹینشن اور اینگزائٹی کا شکار ہوکر رہ گئے ہیں ، اور ہر انسان اس مرض میں مبتلا ہوکر زہنی امراض کے معالجین کے سامنے اپنی زندگی کی بھیک مانگتے نظر اتا ہے ، جو لوگ نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں وہ زندگی کی دوڑ سےباہر کردیے جاتے ہیں ، کاروبار میں ناکامی، طویل بیماری، کسی اپنے کی اچانک موت کا نہ بھولنے والا صدمہ ، حد سے بڑھی حساسیت ، محبت میں ناکامی، ملازمت کیرئیر میں ترقی نہ کرسکنے کا خوف ، اعلی تعلیم حاصل نہ ہوپانا، معاشی پریشانیاں اور لمبی غربت اپنی شریک حیات سے زہنی وابستگی نہ ہوپانا شکل و صورت میں کمتری کا احساس، جسمانی معذوری یاعیب، اور اس طرح کے بے شمار خوفناک مسائل سے جن لوگوں کا واسطہ پڑتا ہے ان کی زندگی دوسروں سے بلکل الگ ہوجاتی ہے
    ایسےلوگ جب اپنے مسائل کا حل تلاش کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں ہیں تو کچھ نشے کی نیند کی گولیاں اور نفسیاتی دواوں میں پناہ ڈھونڈتے ہیں،کچھ تصوف کو چھتری سمجھتے ہوئے پیروں بابوں عاملوں کے در پر جاکھڑے ہوتے ہیں یا اوارد و وظائف میں کسی آسمانی مدد کے منتظر ہوتے ہیں یاد رہے کہ میں ان سب عوامل کے مخالف نہیں صرف ایک نفسیات عرض کررہا ہوں جس کی تہہ تک پہنچنے اور فلسفہ حیات سمجھنے کے لیے مسلسل اقساط کا مطالعہ ضروری ہے ، زندگی جب بہت بوجھل ہوجائے تو اسے گزارنے کے لیے انسان کسی ایسے فارمولے میتھڈ یا پناہ گاہ کی تلاش میں نکلتا ہے جس سے اسے امید ہوجائے کہ اس کی زندگی کا ہر لمحہ بڑھتا ہوا یہ بوجھل پن دور ہوجائے گا۔ یہ خوش فہمی بہت سالوں قائم رہتا ہے لیکن جب تک انسان کی حقیقت نہ بدلے تب تک یہ سب بے سود ہے انسان اس بات سے بے خبر ہے کہ یہ سب عارضی فائدے ہیں ۔ یعنی صرف temporary relief ہیں ، نشہ یا کوئی بھی addiction اپنی اصل میں عارضی فائدہ ہے ، اسی طرح ہمیں مساجد میں کثرت ایسے لوگوں کی مل سکتی ہے جو نماز تو پڑھتے ہیں لیکن اسکے باوجود نماز کا اثر انکی روزمرہ زندگی پر بلکل نظر نہیں آئے گا، ایک طویل عرصہ عباتدت و ریاضت کرنے کے بعد بھی انکے دل میں حسد بغض کینہ جھوٹ مکاری فریب پایا جائے گا ، وہ نماز کیسی جو انسان کو انسان نہ بنائے
    نماز ہم پر فرض ہے مگر اس فرض کو محض رسم کے طور پر جائے اور رسمی طور پر ادا کی جائے تو کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ اللہ ہم سے یہی چاہتا ہے؟ ہم اس طرح کیوں نہیں سوچنا چاہتےہم کامیابی سے اس سوال کو کیوں نظر انداز کردیتے ہیں ؟ Why we always successfully avoid this basic question?????
    نماز کے بعد جھوٹ فریب ریا کاری حسد بغض کینہ عداوت کدورت بے ایمانی چوری زنا فحش خیالی یہ سب اس بات کی دلیل ہیں کہ ہم نفیساتی طور پر نماز کا سہارا بھی ایک نفسیاتی پناہ کے طور پر لے رہے ہیں ،
    تصوف ، محبت الہی و محبت رسول ﷺ کے میدان میں نکلیں تو ہمیں کئی ایسے معاملات دیکھنیں کو ملیں گے جن پر تحقیقی نگاہ دوڑائیں تو نتیجہ وہی نکلے گا جو اوپر بیان کرچکا ہوں، مثلا بڑے بڑے مذہبی اجتماع، عظیم الشان عرس ، عالمانہ جذبات کو سلگا دینے والی تقریریں فیس بک یوٹیوب پر جذبات سے بھرپور انتہائی عالمانہ ویڈیوز میں بیانات ۔۔۔۔۔ مقصد یہ نہیں کہ میرا کوئی اختلاف ہے ، یہ سب سہی ہیں لیکن زرا ایک نظر ہم خود پر ڈالیں کہ ہم نے ان سے آج تک کیا حاصل کیا؟ کسی تقریر بیان قول اجتماع عرس سے حاصل ہونے والی تعلیم سے ہم میں کوئی تبدیلی ؟؟؟ 98 فیصد کا جواب ہوگا نہیں !
    آج ہم اپنی زندگی پر ایک نگاہ دوڑا کر فیصلہ کریں تو نتیجا یہ نکلے گا کہ ہم صرف پناہ گاہ کی تلاش میں رہے ہیں درحقیقت ہم نے کچھ حاصل نہیں کیا، یہ صرف روحانی تفریح spiritual enterainment تھی ۔۔۔ اسی حثیت ایک آنسو گیس کی سی ہے جو چند سیکنڈ منٹ کے لیے رلاتی ہے پھر پرانی کفیت شروع۔۔
    اسی طرح علم خودی میں تصوف و دین کو دیکھیں یہ مراقبے چلے ریاضتیں محافل اجتماع تبلیغی چلے اصلاحی کانفرنسز ہمیں کس طرف جانے کا درس دیتی ہیں ؟ ایک ہی بات ہے نیت ٹھیک نہیں اگر ہمارا مقصد حصول علم نہیں تو سب فضول ہے کچھ حاصل نہیں ، سب رائگانی ہے اور وہ بھی عمر کے لمحات کی ،
    ہماری نفسیات مقصد انسانیت کو ترک کرکے صرف پناہ گاہوں کی تلاش میں سرگرم عمل ہے جو کہ صرف اپنے اپ کو صریح دھوکہ دیا جارہا ہے مثلا ایک خوشحال شخص پر اچانک آزمائش وقت اگہی اب وہ علم سے ناآشنا ہے بجائے اللہ رسول کا قرب حاصل کرنے کے وہ عارضی سہولتوں کے پیچھے بھاگتا ہے ۔۔ یہ ایک حقیقت ہے ایک fact ہے یہ عارضی فائدہ temporary relief ہے اسی طرح ہر وقت فلمیں دیکھنے والا شخص مصیبت آنے پر یک دم سے مسجد کا رخ کرلے گا ، عورت یا نشے کے چکر کا حامل شخص جب ناکام ہوکر کسی پیر کی بیت کرلے گا تو خود کو صوفی یا فقیر سمجھنا شروع کردے گا ، محفل سماع میں عارضی وجد خود پر لاگو کرلے گا ، یہ سب فرار ہیں حقیقت سے ۔۔ اسی طرح کچھ لوگ خود کو شیدید محنت میں غرض کرلیتے ہیں اور workholic ہوجاتے ہیں۔ دن رات کام کرتے ہیں اگر مقصد نیک اور سب کی بھلائی ہو تو بہت اعلی لیکن صرف خود کی زات کے لیے اور مادیت پرستی کے لیے یہ بہت خطرناک نفسیاتی بیماری ہے جو روٹین میں پناہ لیتے ہیں نو سے پانچ کام کرنے والے لوگ۔ یہ لوگ غور و فکر کو دھتکار دیتے ہیں ، صرف اپنی روٹین کو فالو کرتے ہیں ۔ روٹین کا ہونا بری بات نہیں لیکن روٹین کا بچاری کولہو کا بیل کہلاتا ہے ۔
    انسان خود کو سمجھے خود کو جانے کہ میں کون ہوں کہاں سے ایا ہوں میرا یہاں آنے کا مقصد کیا ہے میرا رب کون ہے اور مجھ سے کیا چاہتا ہے میرا ڈپریشن کیا ہے ، مجھے سب کچھ پالینے یا کچھ بھی نا ہونے کے باوجود ہر حال میں بے چینی کیوں رہتی ہے مجھے آخر کس چیز کی تلاش ہے ؟
    اسی موضوع کو لیکر ہم آگے اپنی اقساط میں ان شاء اللہ مفصل رہمنائی کریں گے جس سے آپ دیکھیں گے کہ اپ اور میں اس وقت کہاں ہیں !
    میں کون ہوں؟ خودی کیا ہے ؟ نفس کیا ہے؟
    who am i? what is ego? what is self?
    اپنی پہچان کے لیے جب ہم قرآن کریم کا سہارا لیتے ہیں تو اللہ عزوجل نے دو طرح کےدشمنوں کا زکر کیا ہے ، شیطان کو انسان کا دشمن کہا ہے اور فرمایا جب میں نے نفس کو پیدا کیا تو اپنا سب سے بڑا دشمن پیدا کیا ہے ۔قرآن کریم میں شدت کے ساتھ نفس کے تزکیہ کا حکم ہے ، تزکیہ تب ہی کیا جاسکتا ہے جب آپ اس دشمن کو جان لیں خوب اچھی طرح پہچان لیں، کہ آخر نفس ہے کیا، اس کے کام کیا ہیں، تبھی آپ اس قابل ہوسکیں گے کہ اُسے پاک کرسکیں
    بنیادی طور پر نفس کے تین حصے ہیں
    جسم
    پانچ حواس
    زہن
    body
    five senses
    mind
    ہم بالترتیب تینوں کا مشاہدہ کریں گے
    جسم ایک رونمائی ہے ۔۔ body is appearance ۔ ہر جاندار کا وجود اس کے جسم کے ساتھ ہے جسم واحد جرثومے singular cell سے بنا ہے ، یہ ایک حیاتیاتی مادہ matter ہے ۔ جسم ایک زندہ چیز نہیں ، پانچ حواس five senses موجود نہ ہوں دماغ کام نہ کررہا ہوتو جسم کی اپنی حثیت ایک مردے کی ہے،
    جسم کا عقل سے براہ راست کوئی زیادہ تعلق نہیں ، جسم حیوانی ہے اس میں دو خصوصیتیں ہیں ، اول بچاو survival اور دوئم افزائش نسل یعنی reproducation ، جسم صرف بھوک مٹانے اور اپنی پیدوار بڑھانے reproduction میں دلچسبی رکھتا ہے ، باقی کسی معاملے سے ا سے کوئی غرض نہیں ،

    گو کہ انسانی جسم اپنی بناوٹ اور نفاست کے اعتبار سے تمام حیوانی اجسام میں اعلی وجود رکھتا ہے لیکن پھر بھی یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ بنیادی طور پر حیوان اور انسان کے جسم میں حیاتیاتی اعتبار سے کوئی زیادہ فرق نہیں ۔
    زندگی اسکی سرشت ہے یہ بذات خود زندگی ہے ، اسے دنیا میں بچنے کیلیے خواراک چاہیے اور یہی اسکی اول ترجیع ہے بھوک مٹانے کے بعد یہ خود کو ابدیٰ eternal کرنا چاہتا ہے لازوال ہونا چاہتا ہے ، اس کے لیے اسکے پاس صرف یہی ایک راستہ بچتا ہے کہ وہ اپنی نسل کو جسنی عمل سے آگے بڑھائے ، اسکے لیے یہ کسی لذت کا طلبگار نہیں ، لذت pleasure جسم کا نہیں زہن کا مسلہ ہے
    جسم کو تو خود کو آگے بڑھانا ہوتا ہے organism کو deliver کرنا ہے تاکہ زندگی قائم رکھ سکے، یہی اس کی عقل ہے اور اتنا ہی اس کا مقدر ہے ، یہ مٹی سے بنا ہے انسان کو اسی دنیا میں ایک لباس کی صورت میں عطا کیا گیا ہے ، ایک ایسا لباس جو اس انسان کا اپنا نہیں بلکہ اس زمین کا ہے جو موت کے وقت اسی زمین کو واپس کردیا جاتا ہے، جسم نہیں جانتا کہ وہ مردہ ہے یا زندہ اسے کوئی خبر نہیں کہ تکلیف کیا شے ہے ، یہ سب تو اسے زہن بتاتا ہے اس بات کو ایک مثال سے سمجھاتا ہوں
    فرض کریں کہ ایک آدمی کو میز پر لٹاکر اس سے اسکا نام بیوی کا نام کاروبار تعلیم کا پوچھا جائے ، جواب ملنے پر اس کے دونوں بازو کاٹ دیے جائیں ، اور پھر وہی سوال کیے جائیں تم کون ہوتو پہلے والا جواب ہی ملے گا ، پھر دوبارہ ٹانگ کان کاٹ کر سوال کیا جائے خواہ دھڑ ہی باقی بچے لیکن جواب وہی پہلے والا ہی ہوگا یعنی تب بھی اس جسم کے بیوی بچے نام کاروبار وہی رہے گا ، اس کا صاف مطلب ہے کہ اس وجود شخصیت کا حصہ ضرور ہے لیکن مکمل شخصیت ہرگز نہیں، پھر وہ کون ہے جو جسم تو نہیں لیکن ہمارا نفس ہے؟؟؟؟
    یہ صرف جسم کا وہ حصہ ہے جو تزکیہ نفس کے لیے انسان کو درکار ہے وگرنہ اللہ عزوجل کی حسین ترین مخلوق ہے ، اس کے اندرونی و بیرونی اعضاء کی تخلیق کے لیے قیامت تک بھی غور کیاجاتا رہے تو کبھی بھی یہ پتہ نہ چل سکے گا کہ یہ آخر کیا ہے؟
    آج سے تقریبا تیس سال پہلے جاکر دیکھیں کہ سائنس اس جسم کوکا کام اتنا نہیں جانتی تھی ، اسکو under estimate کررہی تھی کہ ہربیماری کے لیے ایک ہی ڈاکٹر ہوا کرتا تھا ، لیکن پھر انسان کو احساس ہوا کہ یہ اتنا آسان نہیں ہے ہر عضو کی سپیشلائزیشن کا دور شروع ہوا حتی کہ دانتوں کے لیے سات سال کی طبی تعلیم لازم قرار پائی، جتنا اندر اترتے چلے جائیں گے اتنا ہی راز الجھتا جائے گا حتی کہ بات کلوننگ سے بڑھ کر میوٹیشن تک جاپہنچی ہے جسم کو تاقیامت پڑھاجاتا رہے گا۔
    اسی طرح حواس کی اپنی ایک الگ دنیا ہے جس کے اسرار ہیں اور اپنے کمالات بھی۔ حواس کو بنیادی طور پر پانچ حصوں پر لیتے ہیں
    دیکھنا ۔۔ sight
    سننا . HEARING
    چکھنا ۔۔ taste
    سونگھنا ۔۔۔ smell
    محسوس کرنا ، چھونا ،touch
    یہ جسم یعنی body کے لیے سینسرز sensors کا کام کرتے ہیں ، معلومات اکھٹی کرتے اور دماغ کو پہنچاتے ہیں، ان کا اصل کام جسم اور زہن سے مل کر خواہش کو جنم دینا ہے ، اس پر آگے بات کروں گا ان شاء اللہ جو اس کام کو کرنے کے لیے مخصوص اعضاء دیے گئے ہیں، بصارت آنکھ کو کیمرے کی طرح استمال کرتی ہے ، سماعت کانوں کے ساتھ جڑی ہے، چکھنے کی حس زبان میں ہے سونگھنے کے لیے ناک استمال ہوتی ہے اور چھونے کی حس پورے وجود کے پور پور میں سمائی ہے ، واضح رہے کہ یہ تعریف طبی نقطہ نگاہ سے نہیں کی گئی کیونکہ اللہ پاک ایک تخلیق ہزاروں لاکھوں مقاصد حاصل کرتا ہے، جیسے ناک صرف سونگھنے کے لیے نہیں بلکہ سانس لینے اور ناکارہ ہیں نکالنے سمیت اسکے بہت سارے کام ہیں، یہاں حواس کا بیان کا مقصد صرف اپنی پہچان ہے ، ہم کُل میں سے جُز کو الگ کررہے ہیں، تاکہ جو ایک انسان نظر آرہا ہے وہ حقیقت میں کیا ہے ۔
    حواس یعنی انسان کی senses کے پاس بھی اپنا زاتی کوئی علم نہیں ہے
    زہن کے بغیر حواس بھی ناکارہ ہیں ، ایک نظر زہن کو بھی دیکھتے ہیں
    موضوع کی مناسبت سے سردست صرف اتنا سمجھ لینا کافی ہے کہ زہن انسان کے جسم میں یاداشت کا مرکز و محور ہے یہ ڈیٹا سنٹر ہے ، تجزیہ کار analyst ہے یہ تمام جسم اور حواس پر حکمران ہے حواس باہری دنیا کی معلومات اسے مہیا کرتے ہیں اس انفارمیشن کی مدد سے ماضی کے تجربات کو استمال کرکے زہن ایک تجزیہ کار کی حثیت سے پورے جسم پر ایک فیصلہ کرتا ہے جس کو جسم اور جسم کے تمام حواس ماننے کے پابند ہوتے ہیں
    یہ جانلینا ضروری ہے کہ زہن mind اور دماغ brain دونوں الگ الگ ہیں مگر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں جسیے جسم مادی اور روح غیر مادی ہے اس طرح دماغ مادی اور زہن غیر مادی ہے ، دماغ اعصابی نظام اور بہت سے دوسرے خلیات سے مل کر بنا ہے جن کو دیکھا اور چھوا جاسکت اہے لیکن زہن ایک غیر مادی ہے سوچ ہے ، زہن دماغ کے زریعے تمام جسم انسانی سے جڑا ہوا ہے ، نفس انسان ان تین حصوں سے مل کر بنا ہے
    جسم
    حواس
    اور زہن
    یہ تینوں ایک دوسرے کے بغیر ناکارہ ہیں ، کسی ایک کی دوسرے کے بغیر کوئی حثیت نہیں ہے ، اس اس سوال پر گہرائی سے غور کیا جائے کہ میں کون ہوں تو انسان ورطہ حیرت میں گم ہوجاتا ہے
    کیا میں جسم ہوں ؟ کیا میں احساس ہوں ؟ کیا میں زہن ہوں ؟ جب بھی کوئی اندر اتر کر دیکھتا ہے تو پاتا ہے کہ میں یہ سب نہیں ہوں میں ان سب سے اعلی و ارفعی ہوں میں ایک حقیقت منتظر ہوں، میری عزت میرے خیالات میرے جذبات علم دنیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سب کس کا ہے کیا عزت میرے جسم کی ہے ؟ احساس کی یا پھر میرے زہن کی ؟؟؟
    ان سب سوالات ان شاء اللہ آگے باقی ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔ اس قسط پر اپکی رائے دیکھ کر ان شاء اللہ ۔۔۔
    فقیر مدینہ غلام نبی قادری نوری

    منسلک فائلیں :

اس صفحے کی تشہیر