1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

انسان اور اللہ عزوجل کی زات

غلام نبی قادری نوری سنی نے 'متفرقات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اکتوبر 7, 2019

  1. ‏ اکتوبر 7, 2019 #1
    غلام نبی قادری نوری سنی

    غلام نبی قادری نوری سنی رکن ختم نبوت فورم

    انسان اور اللہ عزوجل کی زات
    قسط نمبر 7۔
    تکلیف کیا ہے اس کی اصل حقیقت اور خاتمہ ۔
    بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔
    معزز قارئین الحمد اللہ ہمارے سلسلہ علم نفسیات کی روشنی میں الہ تک پہنچنے کے سفر میں آج ساتویں قسط پیش کی جارہی ہے ، گزشتہ اقساط میں ہم نے نفس اور ماہیتِ نفس پر تفصیلی گفتگو کی جس کے بعد مرحلہ آتا ہے نفس کی خصلتوں کا۔
    اول جبلت تکلیف ہے جس پر ہم آج مفصل گفتگو کریں گے اور جاننے کی کوشش کریں گے کہ تکلیف اپنی اصل میں کیا ہے رب اور انسان کے درمیان تکلف کا کیا تعلق ہے اور سمیت کئی گتھیاں سلجھانے کی کوشش کریں گے۔ گزشتہ اقساط میری پروفائل غلام نبی قادری نوری پر آپ کو مل جائیں گی ۔
    انسانی نفس تکلیف سے بہت خوفزدہ ہے ۔ کبھی تکلیف کو پسند نہیں کرتا اس سے بھاگتا ہے غیر تربیت یافتہ نفس خود نہیں جانتا کہ تکلیف کوئی باہری آفت نہیں جس سے وہ بچ جائے گا بلکہ یہ تو اس کی اپنی جبلت خصلت ہے ۔
    تکلیف pain ایک حفاظتی نظام ہے جو نفس میں اللہ جانب سے انسٹال کیا گیا ہے ۔ تکلیف ایک preservative ہے ۔ جیسے دوائی کی پیکنگ میں ایک پڑیا ہوتی ہے ، جو دوائی کو خراب ہونے سے بچاتی ہے اسے preservative کہتے ہیں اسی طرح یہ تکلیف ہے جو انسان کے جسم اور اس کے نفس کو اس دنیا میں محفوظ کیے ہوئے ہے ، تکلیف سے زندگی اس سیارے پر برقرار ہے اور خاص طور پر انسان کی زمین پر تمام جانداروں پر بلاشرکت غیرے حکمرانی میں انسان کے شعور میں تکلیف کے علم کا بہت بڑا کردار ہے ۔ تکلیف کا یہ علم دوسرے تمام جانداروں میں موجود تو ضرور ہوتا ہے لیکن محدود عارضی اور زیادہ تر صرف فوری رد عمل اور احساس کی صورت میں ظہور پزیر ہوجاتا ہے ۔ اگر تکلیف کا وجود جانداروں میں نہ رکھا جاتا تو کوئی زی روح اس سیارے پر جینے کے فن سے آشنا نہ ہوپاتا ۔
    دوسرے جانداروں کی قسمت کی ستم ظریفی کہہ لیجیے کہ ان کی یاداشت memory شارٹ ٹرم ہے ۔ وہ تکلیف سے ملنے والا ڈیٹا زیادہ دیر محفوظ نہیں کرسکتے ، ورنہ دنیا پر حکومت کرنا تو ایک طرف گدھے پر سوار ہوجانا ہی بہت بڑی کرامت کہلاتی ۔۔۔۔۔
    تکلیف کا علم اس کی باخبری ایک مخصوص تناو یعنی stress پیدا کرتی ہے ، جس کی وجہ سے انسان اپنی زندگی کی حفاظت کرنے پر قائل convince ہوتا ہے، تکلیف کا کل علم اس کے احساس کا گہرا شعور ہے ۔
    بازار میں کسی رش والی سڑک پر چلتے ہوئے لوگوں کا مشاہدہ کریں تو بھید کھلے گا کہ ہر آدمی سڑک پر کس قدر تناو میں چلتا ہے ۔ زرا کسی کے پاوں پر کسی دوسرے کا پاوں اجائے کسی کی موٹر سکائل کسی کے گھٹنوں سے ٹکرا جائے آپ کو پل بھر میں دونوں فریقین کے چکہرے کا رنگ بدلتا دکھائی دے گا ۔
    اگر انسان کو حادثے کے نتیجے میں تکلیف کے آپہنچنے کا ڈر نہ ہوتا تو راستے بننا ممکن نہیں تھے ، اور نہ ہی کوئی سفر تھا نہ کوئی ہسپتال نہ کوئی ڈاکٹر اور نہ مریض ، بڑی سے بڑی بیماری کا آپریشن محض ایک چاقو سے کیاجاسکتا تھا ، لوگ فیشن کے طور پر اپنی آنتیں نکال کر گلے میں مفلر کی طرح لپیٹ کر بازاروں میں گھومتے ۔۔۔۔
    کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ سوچا ہے کہ ہم بال کیوں کٹواتے ہیں کیا اس لیے کٹواتے ہیں کہ سب کٹواتے ہیں ؟ یا پھر اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ بالوں کو کٹوانے میں تکلیف کا کوئی احساس نہیں اس لیے ان کی تراش ممکن ہے ، یہ تکلیف ہے جس کے آجانے کے ڈر سے ہم خود کو حادثات سے بھری اس دنیا میں سمبھالے پھرتے ہیں ۔ یہ ایسے ہی جیسے پھتروں کی بارش میں کانچ کا بنا انسان خود کو بچانے میں دیوانہ وار مصروف ہے ایسا کرنے سے وہ کچھ دیر جینے میں تو کامیاب ہوجائے گا لیکن تکلیف کو فنا کردینا ممکن نہیں ۔ کیونکہ تکلیف موت کا لباس ہے ، موت تکلیف کے لباس میں چھپی ہوئی ہمارے اردگرد منڈلارہی ہے ۔
    تنہائی میں اپنا جائزہ لیں کہ کسی تکلیف کے آجانے پر اپ اس کا سامنا کیسے کرتے ہیں ۔
    کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو سر میں معمولی سا درد ہوتے ہیں ڈاکٹر کو بھاگ نکلتے ہیں ، یہ اینگزائٹی کا شکار ہوتے ہیں، یہ لوگ تکلیف کے محسوس ہوتے ہی اس کا تجزیہ کرنے لگتے ہیں کہ لگتا ہے مجھے گردے میں پتھری ہے ، یہ جو تین دن سے سر میں درد ہے کہیں برین ٹیومر نہ ہو، کہیں میں مائیگرین کا مریض تو نہیں۔۔۔۔ یہ لوگ بے چین ہوتے ہیں خوفزدہ ہوتے ہیں زرا سی تکلیف پر گولیاں پھانکنے لگتے ہیں انجکشن لگوانے لگتے ہی اور اینٹی بائیوٹک کورس شروع کردیتے ہیں معمولی تکلیف کو کسی بڑی بیماری کا پیش خیمہ سمجھ بیٹھتے ہیں ۔ یہ سب بے چین ہوتے ہیں
    زہن کی یہ عادت ہے کہ ہر واقعے کو بڑا magnify کرکے دکھاتا ہے ، جس سے جسم میں غیر ضروری ہیجان پیدا ہوتا ہے ، آج کل تو چونکہ ہر انسان کے اعصاب کمزور ہوچکے ہیں ، اس لیے بھی کسی بھی اچانک پیش آنے والی تکلیف دہ صورتحال یا حادثے میں انسان کا فوری رد عمل بے پناہ ہیجان کی صورت میں سامنے آتا ہے ۔
    اس ہیجان کے نتیجے میں انسان درست فیصلہ کرنے کی اہلیت کھو بیٹھتا ہے ۔
    انسان پر جب کوئی مصیبت آتی ہے تو اپنی تکلیف کے درد کو بھول کر فوری طور پر وہ بے معنی سوالات سے الجھنا شروع کردیتا ہے مثلا ایک آدمی کی حادثے میں ٹانگ ٹوٹ گئی خون بہنا شروع ہوگیا اب وہ اپنے زخم و درد کو دیکھ کر فوری طور پر مستقبل کے خاکے بننا شروع کردے گا کہ میرا زخم نہ بھرا تو مرجاوں گا اگر بچ بھی گیا تو کام پر نہیں جاپاوں گا اگر کام پر نہ گیا تو بیوی بچے یا گھر والے بھوکے مریں گے فاقہ آئے گا غریبی ائے گی ہائے میں برباد ہوگیا ۔۔۔۔۔۔وغیرہ
    انسان کو کیا ٹانگ ٹوٹنے کی تکلیف کافی نہیں خود کو سمبھالنے کی بجائے وہ سوچوں میں غرق ہونا شروع کردیتا ہےجس سے اس کی نفسیات ازیت اور خوف کا بے پناہ بوجھ بڑھ جاتا ہے ۔ حالانکہ ااسے علم نہیں ہوتا کہ اگے کیا ہونا ہے ۔
    اگر واقعی وقت ختم ہوگیا تو تو گھبرانے کا کیا فائدہ ؟؟ سبھی کا ختم ہونا ہے اگر وہ بچ گیا تو کیسے جانتا ہے کہ اس کی زندگی تباہ ہوگئی ہے؟
    ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حادثہ درپیش ہونے پر صبر و تحمل سے حادثے سے نکلے اور خود کو سمبھالے مدد لے ۔۔۔ جو ہوگا دیکھا جائے گا ہونا تو یہ چاہیے مگر ہوتا اس کے برعکس ہے ۔۔ اس magnification کے ہاتھوں بڑے بڑے مردوں کے حواس کھو جاتے ہیں ۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ اکثر لوگ سانپ کے ڈسے بنا صرف اسکے خوف سے ہی مرجاتے ہیں؟؟ کون ہے جو ہمارا دشمن ہے ؟ کون ہے جو اتنا خوفزدہ ہے ؟؟ بات بات پر موت کے خوف سے چونک اٹھتا ہے اور ہم میں وہ کون ہے جو اپنی زندگی کو غیر محفوظ محسوس کرنے کا ڈر دیکر فوری ماتم شروع کردیتا ہے۔
    یہ ہے اپ کا نفس ! آپ کی سوچ ! آپ کے حواس !
    درد کا سامنا وقار کے ساتھ حوصلے سے کرنا چاہیے ہمارے جسم میں تکلیف برداشت کرنے کی بے پناہ صلاحیت ہوتی ہے اسی صلاحیت سے اپنے دفاعی نظام immune system کو استمال کرتے ہوئے جسم خود کو ٹھیک کرنے کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے اپنے جسم کو آزمانا چاہیے دیکھنا چاہیے کہ تکلیف کو کب اور کہاں تک برداشت کرسکتے ہیں
    علاج فرض ہے اس سے لاپرواہی بالکل بیوقوفی ہے ، اور نہ ہی ایسا مشورہ دے رہا ہوں بات صرف یہ ہے کہ ابتدائی درد کی علامات کو برداشت کرنے کا ہنر انا چاہیے اپنے جسم کی بات سنیں ۔۔۔۔ اسے سمجھیں !
    اگر ہم اپنے جسم کو سمجھنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جسم کو سننے میں مہارت حاصل کرلیتے ہیں تو ہم دیکھیں گے کہ یہ حیوانی جسم organism اپنے آپ کو بچانے میں انتہائی ماہر ہے بس ہمت نہیں توڑنی ۔۔۔۔ اگر جسم پر اعتماد رکھا جائے تو یہ بڑے بڑے کارنامے سرانجام دیتا ہے بڑے کرشمے سامنے آتے ہیں ۔۔۔
    اج کل دیکھیں تو امیر لوگ غزائی معاملے میں بہت زیادہ سنجیدہ ہیں ہر چیز صاف ستھری پسند کرتے ہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر ماہرین سے رجوع بھی لیتے ہیں کہ انھیں کیا کھانا چاہیے اور کیا نہیں ۔۔۔ لیکن کیا یہ سچ نہیں کہ کسی دور مقام پر پھنسے ہوں جہاں خوراک میسر نہ ہوتو بندہ کھاس پتے کھا کر اور جوہڑ سے پانی پی کر بھی بچ جاتا ہے ؟؟؟
    بات صرف صورتحال کی ہوتی ہےاس کوئی معاملہ درپیش ہوتو جسم ہر صورت میں اپنے بچاو کا طریقہ نکال لیتا ہے بس اسکو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔۔۔۔ خود پر پورا اعتماد رکھیں ۔۔۔۔
    تکلیف کا اور انسان کاایک اور بھی رشتہ ہے ۔۔۔۔۔۔ تکلیف کے بنا کوئی انسان کچھ بھی نہیں سیکھ پاتا ۔۔۔ اللہ انسان کو جو بھی دیتا ہے اسے حاصل کرنے کے لیے انسان کو تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے دباو سے گزرنا پڑتا ہے ۔۔۔۔۔
    بچے کی پیدائش ایک دن میں ناممکن ہے ۔۔۔ ماں کے بطن میں اتنی گنجائش نہیں ۔۔۔۔ اس لیے اس ناممکن کو ممکن بنانے کے لیے ماں کو تکلیف سے گزرنا پرتا ہے ۔۔۔ یوں آہستہ آہستہ اس کے جسم اور نفس میں آنے والے بچے کی وسعت پیدا ہونے لگتی ہے ۔۔۔ یہاں تک کہ ماں انتہائی تکلیف کے باجود بچے کو جنم دینے کے لیے تیار ہوتی ہے ۔۔۔یہی وجہ ہے کہ جو محبت اپنے بچے سے ہوتی ہے وہ دوسرے بچے کے لیے پیدا کرنا ممکن نہیں اس محبت اور ممتا کے پس پردہ شدید تکلیف اور درد ہے ۔۔۔۔
    اللہ جب بھی کسی انسان کو کچھ دینے کا ارادہ کرلیتا ہے تو پہلے اس کے نفس میں گنجائش پیدا کرتا ہے نفس کیونکہ بخل اور تنگی میں مبتلا ہوتا ہے اس لیے اس پر دباو ڈالا جاتا ہے تاکہ اس میں وسعت اور کشائش پیدا ہو اپ اپنی زندگی کا مشاہدہ کریں تو اپ کو نظر آئے گا کہ اپ کو اپنی کامیابیوں کے پچیھے طویل ناکامیوں ریاضت تکلیف اور بے پناہ دباو نظر آئے گا ، یہ قدرت کا اصول ہے جتنا دباو ہم پر پڑتا ہے اس کا صاف مطلب ہے کہ کوئی نئی عطا ظہور ہونے والی ہے ۔۔۔۔۔
    یہ بھی تکلیف pain کا ایک چہرہ ہے ہر تکلیف کے پیچھے اللہ کی رحمت چھپی ہوتی ہے ۔۔۔ تکلیف اللہ کی بندے سے محبت کی نشانی ہے ۔۔۔ قبلہ شاہ جی سرکار استاد محترم کا بہت خوبصورت قول ہے کہ مصیبت و تکلیف اگر بری شے ہوتی تو انبیاء پر کبھی نہ آتی ۔۔۔۔۔۔۔۔
    فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا
    بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے
    (الشرح آیت نمبر 6)
    منجانب فقیر مدینہ غلام نبی قادری نوری

    منسلک فائلیں :

    • 14547.jpg
      14547.jpg
      File size:
      188.6 KB
      مناظر :
      0

اس صفحے کی تشہیر