1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

انسان اور اللہ عزوجل کی زات

غلام نبی قادری نوری سنی نے 'متفرق مقالات وتحاریر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اکتوبر 7, 2019

  1. ‏ اکتوبر 7, 2019 #1
    غلام نبی قادری نوری سنی

    غلام نبی قادری نوری سنی رکن ختم نبوت فورم

    72075085_917171922002406_8670940174873526272_o.jpg قسط نمبر 4۔
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    معزز قارئین زی وقار جو احباب تسلسل سے اقساط کے ساتھ منسلک ہیں ان کو تہہ دل سے خوش آمدید کہتا ہوں کہ آپ اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہونے جارہے ہیں جو عنقریب آپ کا زاویہ سوچ بدل دے گا ۔۔ جن احباب نے اقساط کا مطالعہ نہیں کیا وہ گزشتہ تین اقساط کو بازوق ہوکر مطالعہ فرمائیں اور اس قافلہ میں شامل ہوجائیں کیونکہ کتب و تحریراور سوشل میڈیا کی دنیا میں آج تک کسی تصوف کو ایسے زاویے سے پیش نہیں کیا ہوگا جس زاویہ سے سمجھنے کو آپ کو مل رہا ہے لہذا موقعہ غنیمنت جانیے اور حصول معرفت کی طلب جگائیے خود میں اور شامل ہوں اس قافلے میں جو انسان کو اللہ عزوجل تک لے جاتا ہے ۔۔۔
    ہم نے گزشتہ اقساط میں نفس خودی علم و عقل سوچ و خیال پر گفتگو کی جس کے بعد مرحلہ آتا ہے جسم اور زہن کے گٹھ جوڑ اور نفس میں تکرار کے لامتناہی ایک نہ رکنے والے سلسلے کا ۔۔۔۔ اج ہم ان دو باتوں کو زیر بحث لاکر ان شاء اللہ اللہ کے شاہکار انسان کی گہرائیوں میں چھپے موتی نکالنے کی کوشش کریں گے
    جسم اور زہن کا گٹھ جوڑ
    Alliance of body and mind
    چونکہ ان دونوں کا ایک دوسرے کے بغیر گزارا نہیں ہے اس لیے نفس کے یہ دونوں حصے ایک دوسرے کے ساتھ ایک معاہدے contract میں بندھے ہیں اور وہ معاہدہ ہے ایک دوسرے کی خاطر جینا اور ایک دوسرے کی ہر حد تک ممکن مدد کرنا
    انسان کے جسم کو چونکہ صرف بھوک اور جنسی پیداوار سے غرض ہے اس لیے یہی اسکی کی پہلی اور آخری ڈیمانڈ ہے جسے زہن کو ہر صورت پورا کرنا ہے چاہے اس کے لیے اسے کچھ بھی کرنا پڑے ۔ نفس کا تیسرا حصہ یعنی حواس sensors اس ساری صورتحال میں غلاموں کا کردار ادا کرتے ہیں
    جسم کی ہر قسم کی بھوک دور کرنے کے لیے زہنِ انسان کو چاہے وہ مرد کا ہو یا عورت کا دنیادری کے عظیم جال میں خود اپنی مرضی سے پھنسنا پڑتا ہے ۔ یہ خالق کائنات کی مرضی بھی ہیے کہ انسان کو آزمایا جائے ۔۔۔۔۔ اس سے فرار ممکن نہیں اور نہ ہی کسی بھی صورت میں قابل ستائش ہے ۔ زہن کے لیے سب سے ضروی کام جسم کو زندہ رکھنا ہے ۔۔ اور اس کی ہر ڈیمانڈز کو ہر وقت پورے کرتے رہنا ہے کیونکہ جسم کی موت زہن کی ناکامی ہے ۔۔۔۔۔
    اس چکر کو چلائے رکھنے کے لیے حواس کا بے دریغ استمال ہوتا ہے ۔۔ حواس کی مدد سے زہن ہر وقت ہر طرف سے معلومات data اکھٹی کرتا رہتا ہے تاکہ بچاو survival کے زیادہ سے زیادہ طریقوں ideas کا مالک ہوسکے۔۔۔۔
    کیونکہ اسے ہر صورت میں دنیا میں اپنا وجود قائم رکھنا ہے۔۔۔ تمام جانداروں میں صرف انسان ایک ایسی مخلوق ہے جسے موت کا مکمل ترین اور بلند ترین شعور ہے یہ خوب جانتا ہے کہ اسے مرجانا ہے ۔۔ موت کا خوف اسے ہر وقت بے چین رکھتا ہے ۔۔۔ یہ بے چینی جلد بازی کو پیدا کرتی ہے ۔۔۔۔ انسان مرنے سے پہلے کچھ کرنا چاہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ کچھ بھی !!! چاہے وہ برا ہو یا اچھا ۔۔۔
    وَكَانَ الْإِنسَانُ عَجُولًا
    اور انسان جلد باز ہے
    (الاسراء آیت نمبر 11)
    زہن کی اولین جبلت یعنی اصلی سوچ عدم تحفظ یعنی خود کی insecurity کا احساس ہے ۔ یہ ہر سانس کے ساتھ خود محفوظ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے ۔ نفس کو خدا سے کوئی غرض نہیں ۔اسے اللہ کے پاس واپس پلٹنے سے کوئی دلچسبی نہیں ہے یہ خدا سے بھاگتا ہے بیزار ہے اور خوف کھاتا ہے کیونکہ یہ دنیا میں رہنے کے لیے بنا ہے ۔ اسے اپنے آپ سے ہمیشہ ہمدردی ہے جسم اس کا محکوم یعنی غلام ہے۔ اور یہ ایسا سفاک حاکم ہے جسے اپنے محکوم غلام یعنی جسم سے بے پناہ ہمدردی ہے ۔ لیکن یہ کسی صورت صورت اسے آزاد کرنے کو تیار نہیں !
    واضح رہے کہ نفس کے بارے میں جتنی بھی باتیں یہاں لکھ رہا ہوں اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ دنیا چھوڑ کر الگ ہوکر بیٹھ جانا چاہیے ۔۔ اسلام میں رہبانیت نہیں اور اللہ عزوجل پاگل شخص کو پسند نہیں فرماتا یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ ہمیں دنیا میں اسی وجود اور زہن کے ساتھ جینا ہے خیالات سے مکمل نجات کبھی ممکن نہیں ہے ۔
    نفس کی پچیدگیوں کو مکمل طور پر جان لینے کا دعویٰ اپ میرے جیسے انسانوں کے لیے صرف اور صرف دماغی خلجان ہی کہلا سکتا ہے ۔۔۔ اصل راز یہ ہے کہ زہن کی فطرت ہے کہ جب یہ کسی شے کو جان لیتا ہے تو اس شے کی اہمیت طاقت اور ہیبت اس کی نظر میں ہمیشہ کے لیے ختم ہوجاتی ہے ۔۔۔۔
    نفس کا علم حاصل کرلینے کے بعد زہن آہستہ آہستہ نفس کی قید سے آزاد ہوجانے کو ممکن سمجھنے لگتا ہے ۔ وہ جان لیتا ہے کہ وہ صرف نفس نہیں ہے جیسے جیسے آپ میری اقساط پڑھتے چلے جائیں گے ویسے ویسے آپ پر آپ کے نفس کے افعال ، کمالات اسرار اور کردار عیاں ہوتے چلے جائیں گے ۔۔ یہ اپ کے زہن کے لیے نئی معلومات ہے یہ نیا ڈیٹا ہے ۔۔۔۔۔۔
    اس سے آگاہ ہوجانے کے بعد زہن میں اس کے نصب install ہوجانے کے بعد اپ کی اہمیت اپ کی نظر میں تبدیل ہونا شروع ہوجائے گی ،، اپ کے اور اپ کے نفس کے درمیان فاصلہ پیدا ہوجائے گا ۔۔۔۔ فاصلہ پیدا ہوجانے سے آپ خود کو خود سے دور ہوکر دیکھنے کے قابل ہوں گے اور اپ کے اندر نفسیاتی ارتقاء psycological evolution کا آغاز ہوجائے گا ۔۔۔ اپ جسے میں Me سمجھتے چلے آرہے تھے آپ کو صاف نظر انے لگے گا کہ وہ بہت بڑا دھوکہ ہے ،۔۔ خود ساختہ مسائل نفس سے لاعلمی کی وجہ سے پیدا ہونے والی نفسیاتی الجھنیں ، دکھ درد کرب حسد غصہ نفرت اور انتقام ، حد سے زیادہ آگے بڑھنے کی مبالغہ امیر خواہش اس بات کا بے کراں دکھ کہ کوئی اپ کو نہیں سمجھتا نہ ہی کوئی جانتا ہے کہ اپ کیا چاہتے ہیں!!!
    یہ سب کچھ تحلیل ہونا شروع ہوجائے گا ۔۔۔۔ دھیرے دھیرے پردے کے پیچھے سے ایک باوقار سلجھا ہوا اللہ کی رضا میں راضی اس کی دوستی یعنی ولایت کے مزاج میں گندھا ہوا ساری دنیا کے لیے سر تا پاوں محبت میں لبریز ایک نیا انسان نمودار ہونے لگے گا ۔
    نفس کی تربیت اسے اصل علم کی فراہمی سے ہی ممکن ہے ، اسلام میں نفس کو مارا نہیں جاتا بلکہ اسے اللہ کی راہ میں مسلمان کیا جاتا ہے۔۔۔۔ اپنا ساتھی بنایا جاتا ہے ۔۔۔۔ سب سے وفادار اور مخلص ساتھی ۔۔۔۔۔ جو علم کے بغیر ہمارا سب سے بڑا اور خطرناک ترین دشمن ہے ۔۔۔ خیر اس موضوع پر بہت گہرائی میں اترا جاسکتا ہے لیکن اس کو مختصرا یہں تک محدود کرتے ہوئے ہم اپنی دوسری اور اس قسط کی آخری سمت میں بڑھتے ہیں
    vicious loop of repetition
    تکرار یعنی دہرانے کا مسلسل لامتناہی چکر ۔۔۔۔۔۔
    سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ اصل مسلہ کیا ہے ؟ ہم زندگی میں کیا کرنا چاہ رہے ہیں ؟ وہ کونسا سوال ہے جو سب سے بڑا ہے اور زندگی میں حل کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے ۔ ؟ کہیں ایسا تونہیں کہ ہماری زندگی میں سرے سے کوئی مسلہ ہے ہی نہیں ؟ کہیں یہ بات تو نہیں کہ سارے مسائل ہمارے خود ساختہ ہیں ؟؟
    بچپن میں انسان کا کوئی مسلہ نہیں ہوتا پھر آہستہ آہستہ اسے چھوٹے چھوٹے مسائل سے روشناس کرویا جاتا ہے ۔، ماں کے دودھ کے بعد ہاتھ سے کھانا کھلا کر اسے سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اس کا مسلہ یہ ہے کہ اسے کھانا کھانا سیکھنا ہے۔ پھر کپڑے پہننے کو ملے کے طور پر اجاگر کیا جاتا ہے اسی طرح بتدریج اسے حروف تہجی اور گنتی جیسے مسائل کے سامنے کھڑا کرکے انہیں حل کرنے کا طریقہ کار بتایا جاتا ہے ۔۔۔
    اس طریقہ کار کی بنیاد صرف ایک ہے اور وہ ہے دہرانا / تکرار کرنا repetition ۔۔ اسے پریکٹس کروائی جاتی ہے ۔ بار بار ایک ہی کام کو دہرا کر جو مہارت حاصل ہوتی ہے اسے مسلے کے حل کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔ اس سارے سسٹم سے ہرگز اختلاف نہیں ۔۔۔۔۔ یہ تو ضروری ہے اس کے بغیر گزاراہ نہیں ہے ۔۔۔ ہم ساری عمر اسی تربیت کے مطابق زندگی گزارنے کی سرتوڑ کوشش کرتے ہیں۔۔ یہی ہماری زندگی کا بنیادی فارمولا ہوتا ہے ۔۔۔غلام نبی نوری پر یقین نہ کریں بلکہ خود اپنی آج تک کی زندگی پر نظر دوڑائیں ۔۔۔ غور کریں تجزیہ کریں ۔۔۔ آپ دیکھیں گے کہ زندگی میں پیش آنے والے روزمرہ واقعات کو ہمارا زہن مسائل کے طور پر لیتا ہے اور ہم ساری زندگی ان مسائل کو تکرار repeat کے فارمولے کے تحت حل کرنے میں صرف کرتے ہیں۔۔۔ اپنے معمولات کا جائزہ لیں ۔ روز صبح اٹھنے ، دانت صاف کرنے ناشتہ کرنے اپنے کام پر جانے شام کو واپس گھر انے اور رات کو سونے تک کے تمام معمولات کو دیکھیں ۔ آپ کی ہر شے repeat کی صورت میں ہے ۔۔۔ یہ ہمارے زہن کی پروگرامنگ ہے ۔۔۔
    ہم اپنی ساری زندگی کو ایک مسلے کی طرح دیکھنے کے عادی ہیں ، اور ان مسائل کا حل نکالنے کے لیے ہمارے پاس جو سب سے آخری اوزار tool بچتا ہے جس پر سب متفق ہیں وہ عقل ہے ۔۔۔۔ تکرار کے ساتھ ساتھ ہم اپنے ہر مسلے کے حل کے لیے اپنی عقل کو استمال کرتے ہیں کیونکہ اس کے سوا انسان کے پاس اور کوئی زریعہ نہیں جس سے وہ اپنی زندگی کو آگے بڑھا سکے ۔
    ایک طویل مدت زندگی گزارنے کے بعد ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کو جس سمت لیکر جانا چاہتے تھے وہ اس کے بالکل برعکس چلی گئی ہے ۔ ہم نے اپنے اپ کو عقل کے اندھا دھند استمال سے اج جہاں لاکھڑا کیا ہے وہ ہمارے لیے مقام عبرت ہے ۔، اپ اج جہاں ہیں جو ہیں اور جس حالت میں ہیں کیا اپ یہی کرنا چاہتے تھے؟؟؟؟ کیا اپ کے تمام منصوبے کامیاب رہے ؟؟؟ خود سے سوال پوچھیں اور اس کا جواب تلاش کریں !
    جب ہم یہ دیکھ لیتے ہیں کہ ہماری عقل اگرچہ ہر آنے والے نئے دن پہلے سے بہتر اور تیز تر ہوتی جارہی ہے کیونکہ اصول عقل ہے کہ اس کا استمال اسے بڑھاتا ہے لیکن ہمیں ایک مدت کے بعد ہ احساس ہونے لگتا ہے کہ اس قدر بہتر اور تیز عقل کے باوجود معاملات ویسے نہیں چل رہے جیسے ہم چلانا چاہتے ہیں!
    جب بھی ہم کسی مسلے کو حل کرتے ہیں تو وہ خود توحل ہوجاتا ہے مگر مزید بہت سے نئے مسائل اور نتائج کی شکل میں اپنے بے شمار انڈے بچے دے جاتا ہے ، یہ وہ وقت ہے جب ڈپریشن حملہ آور ہوتا ہے ۔ اعصاب اور زہن دباو کا شکار ہونے لگتے ہیں ، اور ہم اہنی صاف دکھائی دیتی ناکام زندگی سے گھبرا کر کسی نئی پناہ گاہ کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔
    کوئی بابا کوئی پیر کوئی مذہبی شخصیت کوئی روحانی عامل جو ہمیں فارمولا دیتا ہے ایک نیا میتھڈ method بتاتا ہے ۔۔۔ پھر تسبیحات نکل آتی ہیں زکروازکار شروع ہوجاتے ہیں وظائف و اوارد کا دور چلتا ہے بعیت کی جاتی ہے نمازوں کو پورا کیا جاتا ہے دینی مجالس محافل سجائی جاتی ہیں ۔۔۔۔
    یہ سب بلکل ٹھیک ہے برحق ہے سہی ہے اس سے بلکل زرا برابر بھی کوئی اختلاف نہیں بلکہ درست طریقے اور اعلی عقل و فہم سے ان میتھڈز کا استمال انسان کو بہت اعلی ترین اور لازوال بلندیوں پر لے جاسکتا ہے لیکن بات کے کچھ ایسے زاویے بھی ہیں جو ہماری نگاہوں سے اوجھل رہ جاتے ہیں ۔۔۔۔۔
    کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے صرف زندگی کے ہر لمحہ بڑھتے ہوئے دباو سے بچنے کی کوشش میں تکرار یعنی repetition کے ایک اور نہ ختم ہونے والے سلسلے کو اپنی زندگی میں شامل کرلیا ہے ،
    کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم اپنی عقل جوکہ اپنی اصل میں ہمارا نفس ہے اس کو ٹھیک کرنے کی بجائے مزید فارمولے اور میتھڈز کی طرف چل پڑے ہوں ؟؟ یا اسی نفس کے دھوکے میں عارضی پناہ گاہ (جس کا گزشتہ اقساط میں زکر ہوا) کی تلاش میں ہوں ؟؟
    ایسی صورتحال میں یہ سب لاحاصل ہے ۔۔ ہم اپنے خالق کو فریب dodge نہیں دے سکتے ۔۔ وہ جانتا ہے کہ یہ وہی آدمی ہے وہی اسکی نفسانی خواہش ہے وہی روٹین ہے ۔۔۔۔۔ صرف اداکار نے ایک اور نیا روپ دھار لیا ہے ۔۔۔ یہ مزید وقت قدرت سے حاصل کرنے کی کوشش کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا ۔
    صرف اور صرف کسی میتھڈ یا کسی فارمولے سے نفس self کبھی اطاعت نہیں کرتا ۔ اگر اللہ کسی کی آنکھ اس کے اپنے اوپر کھول دے تو وہ دیکھتا ہے کہ یہ عقل بے شک بڑی شے ہے لیکن یہ ناقص حالت میں ہے immaturity میں کسی بھی صورت میری رہنمائی کرنے کے قابل نہیں ہے کیونکہ یہ عقل محدود ہے ۔۔۔ اس سے میں جس بھی مسلے کو ٹھیک کرنے کی کوشش کروں گا وہ مزید الجھنیں چھوڑ جائے گا ۔۔ ہر آنے والا دن میرے لیے مذید مشکلات پیدا کرے گا انسان جب یہ جان لیتا ہے کہ عقل آخری ہتھیار ہے اس کے علاوہ اس کے پاس کچھ نہیں تو اسے احساس ہوتا ہے کہ یہ سب تو جال ہے جس سے وہ خود کبھی باہر نہیں نکل سکتا ، ۔۔۔۔ اپنی چالاکی سے ہرگز نجات نہیں پاسکتا۔۔۔۔ جس لمحے یہ احساس پیدا ہوتا ہے ۔۔۔ انسان کی طلب، اس کی ہر لمحہ بے چین ہوئی ڈیمانڈ پرسکون ہوجاتی ہے ۔۔ سلب ہوجاتی ہے ۔۔۔۔ ختم ہوجاتی ہے ۔۔۔ ٹھنڈی ہوجاتی ہے۔۔۔
    یہی سے زہن انسان پر نئے رازوں کا دروازا کھلتا ہے ۔۔ صبر عطا ہوتا ہے شکر عطا ہوتا ہے ،،، تقوی بھی اسی مقام کی عطا ہے ، توکل بھی پھر تسبیح ہے زکر ہے نماز ہے اللہ ہے اللہ کا رسول ہے اور ایک مسلمان ہے جو مومن بننے کے سفر پر روانہ ہوتا ہے ۔۔۔ ایمان اس کا استقبال کررہا ہے ۔۔۔۔ تکرار کے بغیر گزارا نہیں ہے ۔۔۔ لیکن اندھے کی زندگی اور ہے اور آنکھ والے کی اور۔۔۔۔
    آنکھ والے نے اطاعت کرلی ہے surrender کردیا ہے سرجھکا کر اطاعت کرلی ہے
    بنا شکوہ ہاں میں ہاں ملادی ہے ۔۔۔ مگر اندھا صرف اندھیرے میں زندہ ہے حادثاتی انسان ہے ۔۔۔ نفس کی پہچان کے بغیر بات نہیں بنتی کوئی کتنا ہی زور لگا لے کیسا ہی زہد کرلے ۔۔۔۔۔۔ چلے کاٹے ریاضتیں کرے مجاہدے کرے۔۔۔۔۔ جب تک نفس کے علم کو نہیں جان لیتا تب تک پردہ اٹھانا راز ہستی کو سمجھ جانا کسی صورت ممکن نہیں ۔۔۔۔ اللہ کے سب سے بڑے دشمن کو صرف اسئ صورت میں شکست دی جاسکتی ہے جب اس سے لڑنے والا صاف صاف اسے دیکھ کر جان نہ لے کہ وہ آخر کس سے لڑ رہا ہے ۔۔۔۔ اس کی جنگ کس کے ساتھ چل رہی ہے ۔۔۔ یہ جنگ اپنے آپ سے لڑی جاتی ہے ۔۔۔ اپنی پہچان کے بغیر کوئی کیسے خود سے لڑ سکتا ہے
    خود کو جاننے یہ روحانی نفسیاتی سفر جاری ہے اگلی اقساط میں مذید موتی نکلیں گے ۔۔۔۔۔۔ یار زندہ صحبت باقی
    از قلم فقیر مدینہ غلام نبی قادری نوری

    72075085_917171922002406_8670940174873526272_o.jpg

اس صفحے کی تشہیر