1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

انسان اور اللہ عزوجل کی زات

غلام نبی قادری نوری سنی نے 'متفرق مقالات وتحاریر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اکتوبر 7, 2019

  1. ‏ اکتوبر 7, 2019 #1
    غلام نبی قادری نوری سنی

    غلام نبی قادری نوری سنی رکن ختم نبوت فورم

    انسان اور اللہ عزوجل کی زات
    قسط نمبر 3
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    معزز قارئین زی وقار گزشتہ دو اقساط میں ہم نے علم نفسیات کے اس سلسلہ میں نفس خودی ، علم اور عقل پر بات کی ۔۔ اسی کی کڑی سے منسلک آج ہمارا ٹاپک ہے
    خیا کیا ہے ؟ سوچ کیا ہے ؟
    difference between thought and thinking
    اب اس قسط کی ترتیبا سمجھ انھی احباب کو آئے گی جنہوں نے گزشتہ اقساط کا مطالعہ کیا ہے ، خیر سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی سوچتے ہیں؟
    ہمیں ایسا لگتا ہے کہ ہم سوچتے ہیں جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ انسان ہرگز کچھ نہیں سوچتا ۔ ہم صرف محرک stimulus کا جواب دیتے ہیں ، respond کرتے ہیں ۔ سوچ اپنی اصل میں ایک مردہ شے ہے dead ہے
    سوچ زہن میں پیدا نہیں ہورہی یہ خودبخود وقوع پزیر نہیں ہورہی ۔ سوچ thought باہر ہے external ہے یہ اندرونی internal نہیں ہے ۔ محرک stimulus باہر ہے ، یہ بہت پچیدہ سوال ہے آئیں پیاز کے چھلکے کی تہیں اتارنا شروع کرتے ہیں دیکھتے ہیں آخر میں کیا بچتا ہے
    نظریہ ارتقاء the theory of evolution کی بات شروع ہوتو بہت سے ایسے لوگوں کے دل کو ٹھیس پہنچتی ہے اپنے خیال میں حضرت آدم و حواء علیہ السلام کو آسمان سے زمین پر اترتا دیکھتے ہیں(قرآن و حدیث میں مسلم عقیدے سے رو گردانی نہیں لیکن یہاں بات نفسیات پر ہورہی ہے اس لیے مثال دینے کے لیے صرف ایک تھیوری بنارہا ہوں ) ۔ اللہ عزوجل کی عادت مبارکہ میں تصوارتی بناوٹ نہیں ہے ۔ اللہ عزوجل فکشن fiction کو نہیں حقیقت fact کو پسند فرماتا ہے ۔ وہ عالم ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ سب سے بڑا عالم ۔۔۔۔۔۔ وہ کوئی بھی کام ایسا نہیں کرتا جس کی کوئی علمی بنیاد نہ ہو۔۔۔۔ بندر سے انسان بننے کے عمل کو ہرگز نہ مانیں لیکن یہ بات پھر بھی طے ہے کہ قرآن کہتا ہے کہ انسان پر ایک طویل مدت ایسی بھی گزری ہے کہ جب وہ کوئی قابل زکر شے نہ تھا
    (سورۃ الانسان / الدہر 1)
    اگر وہ ہمارے جیسا ہی کوئی انسان بھی تھا تو لازمی امر ہے کہ جانوروں کے قریب تر زندگی گزارتا تھا ، ہماری خصلتیں بھی اس امر کی شہادت دیتی ہیں ۔ ہر انسان میں کسی نہ کسی جانور کی صفت ہوا کرتی ہے ۔۔۔۔۔ مثلا کوئی بھیڑیا صفت ، کوئی شیر کی طرح بہادر، کوئی لومڑی کی طرح چالاک اور کوئی سانپ کی طرح خطرناک ۔۔ اس اولین دور کے انسان میں عقل و فہم نام کی کوئی شے نہ تھی
    قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ
    ہم نے تمام جانوں کو بخلِ جان پر حاضر کیا
    (النساء آیت نمبر 128)
    یہ بخلِ جان کیا تھا ؟؟ ہر قیمت پر اپنی جان بچانے کی خصلت بخل جان ٹھہری ۔۔۔ کہ کوئی بھی مرنے پر آمادہ نہ تھا ۔۔ ہر طرف موت کی بادشاہی تھی انسان کے پاس عقل تھی نہ علم، نتیجہ یہ تھا کہ انسان مر رہا تھا ۔ ہر شے اس کی دشمن تھی کبھی سانپ نے کاٹ کھایا، تو کبھی کسی کھائی سے نیچے جاگرا ۔۔۔ کبھی درندوں نے چیر پھاڑ دیا تو کبھی پانی میں ڈوب مرا۔۔۔۔ پھر ایک دن اس نے اچانک ناگہانی موت سے انکار کردیا ۔ سو میں سے ننانوے انسان پہاڑ سے گر کر مرگئے لیکن آخری انسان نے موت کے شدید ترین تیز ہوتے محرک stimulus کو جواب دے دیا ۔۔۔ respond کردیا ۔۔۔۔۔
    اس کے زہن میں آنے لگا کہ نیچے ایسا کیا ہے کہ جو جاتا ہے واپس نہیں آتا ؟
    اسے پہلی بار خوف کے سرد احساس سے سامنا ہوا ۔۔ میں ایسا نہیں کروں گا جو مجھ سے پہلے والے کرگئے ہیں ۔۔۔ نتیجتا حادثہ ٹل گیا ۔۔ وہ بچ گیا ۔۔۔ زندگی کو قرار آنے لگا۔۔۔ انسان نے trial and hit سے سیکھنا شروع کیا اور پھر وہ سوچتا ہوا انسان بن گیا !
    ہزاروں سال گزرتے چلے گئے محرک stimulus کی تعداد بے اندازہ بڑھتی چلی گئی اور اس کے رد عمل میں انسان کا جواب response بھی بڑھتا گیا ۔۔ نسل در نسل یہ معلومات یہ data شفٹ ہوتا رہا ۔۔۔ کچھ جینز سے اور بہت سا علم کے طور پر بھی انسان کی نسل کو آگے منتقل ہوتا رہا ، جس کے نتیجے میں انسان ہر گزرنے والے دن کے ساتھ مزید سوچنے والا بنتا چلا گیا ۔۔۔۔
    اسی دوران خالق کائنات نے آسمانی کتابوں کو انبیاء۔ رسولوں اور پیغمبروں کے زریعے اتارا۔ انسان کو وہ سکھایا جو وہ جانتا نہ تھا ۔۔ محرک stimulus کا جواب تو جانور بھی دے رہا تھا ہرن شیر کو دیکھ کر بھاگ رہا تھا ۔۔۔۔
    مگر انسان کی قابلیت اور تھی اس میں شعور تھا ۔۔۔۔
    إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا
    سورہ الانسان(2)
    بے شک ہم نے انسان کو ایک مرکب بوند سے پیدا کیا ہم اس کی آزمائش کرنا چاہتے تھے پس ہم نے اسے سننے والا دیکھنے والا بنایا

    صرف زمینی محرک سے آدمی کبھی انسان نہ بن سکتا تھا اس لیے اللہ نے کتابیں اتاریں انبیاء بھیجے ۔۔ یہ نسل انسان کے استاد تھے ۔ انہوں نے انسان کو اللہ کی کتابوں سے اچھے برے کی تمیز سکھائی تاکہ انسان کو ازمایا جاسکے کہ کون اچھا ہے کون برا ہے
    یاد رکھنے کی بات ہے کہ معاشرہ وجود میں لانے کی طاقت صرف اور صرف آسمانی مذہب ہوتی ہے ۔ اگر الہامی مذاہب نہ آتے تو معاشرہ کبھی وجود نہ پاسکتا تھا !
    نتیجتا انسان سوچتا نہیں صرف محرک کو جواب دیتا ہے ۔۔۔ خیال ایک میموری ہے یاداشت ہے زہن میں خیالات کی مخصوص ترتیب یعنی patterns ہوتے ہیں جیسے جوتا ایک محرک ہے جس کا جواب پاوں ہے ۔۔ مگر اس کا ایک pattern ہے جس میں ایسی تمام میموریز memories ایک ہی جگہ پر محفوظ ہیں ۔ جن کا تعلق جوتے اور پاوں سے ہوسکتا ہے ۔۔ موچی ہے چپل ہے بوٹ اور تمسے ہیں شوپالش اور جوتے بنانے والی کمپنیوں کے اشتہارات ہیں ۔۔ جوتا ٹوٹ جانے کا کوئی واقعہ بھی اسی pattern میں ہے ۔۔ اسی طرح جوتا ٹوٹ جانے پر جس جگہ وقت پر نہ پہنچ پانے کی وجہ سے ندامت ہوئی تھی اس خیال کا pattern اس جوتے کے خیال کے pattern سے جڑا ہے ۔۔۔
    یہ پیچ در پیچ خیالات کا ایک لامتناہی سلسلہ ہوتا ہے جو یاداشت کی صورت میں ہمارے زہن میں محفوظ ہوتا ہے ۔ ایک عام سے جوتے کا محرک آپ کو خیالوں کے سمندر میں غرق رکھنے کو کافی ہے اور ہمارے اردگرد کھربوں محرکات stimulus موجود ہیں جو ہمیں ہر وقت مصروف خیال رکھتے ہیں ۔۔
    خیال اور شے ہے سوچ اور ہے ۔۔ خیال برق کی طرح ہے چھوٹا ہے لپک کر آتا ہے ۔۔ یہ محرک کا جواب سے اسے خیال thought کہتے ہیں خیال کبھی بھی قائم نہیں رہ سکتا ۔۔۔ یہاں تک کہ آپ اسے قبول نہ کرلیں ۔۔۔ آپ کے قبول کرتے ہی وہ سوچ بن جاتا ہے ۔۔۔ اسے سوچنا thinking کہتے ہیں ۔۔۔ اب آپ یاداشتوں کے سلسلوں میں patterns میں بھٹکنا شروع کردیتے ہیں یہاں تک کہ تصورات images شروع ہوجاتے ہیں اور پھر imagination خیالاتی دنیا آباد ہوجاتی ہے۔۔۔۔ جو اگر غیر متعلقہ ہوتو خیالی پلاو بھی کہلاسکتی ہے ۔۔۔
    انسان اپنے خیالوں سے سوچتا ہوا تصورات کے جہان آباد کرتا ہے ، لوگوں سے بدلے لیتا ہے گزرچکے واقعات کو دہراتا ہے ۔۔ خیالی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑتا ہے ۔۔ محبوبہ سے ملاقاتیں کرتا اور اپنی سوچوں میںامارت کی بلندیوں کو جاتا انسان یہ سب imagiation پاگل پن ہے ۔ جس کا کم یا زیادہ کچھ عرصہ تادیر یا ہمیشہ ہم سب شکار ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ موضوع کی طوالت کا خطرہ نہ ہوتو صرف خیالات کے پیچ تاو پر ایک لامتناہی مضمون لکھ سکتا ہوں لیکن چونکہ ہمارا بنیادی مقصد علم نفسیات کی روشنی میں اللہ عزوجل کی زات کی پہچان ہے لہذا خیالات کے موضوع کو اسی طرح چھوڑ کر ہم آگے بڑھیں گے ۔۔۔۔۔ ان شاء اللہ اگلی چوتھی قسط میں جسم اور زہن کے گٹھ جوڑ پر بات کریں گے ۔۔۔۔ اپنی دعاوں میں یاد رکھے گا
    فقیر مدینہ غلام نبی قادری نوری 71287166_916558422063756_7841386955551014912_o.jpg

اس صفحے کی تشہیر