1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

انتساب

محمدابوبکرصدیق نے 'آیات ختم نبوت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ نومبر 21, 2015

  1. ‏ نومبر 21, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    انتساب

    ہندوستان کے علاقہ چاندا پور ضلع شاہجہانپور میں ایک بڑا سرمایہ دار جاگیر دار ہندو تھاجس کا نام تھا منشی پیارے لال اس کی ایک پورپین پادری نولس سے دوستی ہوگئی اس کی باتیں سن کر اس کادل عیسائیت کی طرف مائل ہواتواس کے ہندو دوستوں نے اس کو مشورہ دیا کہ آپ اپنی زمینوں میں ایک مذہبی مباحثہ رکھیں جس میں ختلف مذاہب کے علماء کو بلا کر مذہبی مناظرہ کروائیںاس نے مسلمانوں ، ہندوئوں اور عیسائیوں کو اس کے لئے دعوت دی۔ اہل علاقہ کے مسلمانوں کوبڑا فکر لگا انہوں نے جن علماء کو اس کے لئے بلایا ان میں سرِ فہرست حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ تھے۔

    (مباحثہ شاہجہانپور ص۱۰ ،۱۱)
    اس جگہ دومرتبہ مباحثہ ہوا پہلا مباحثہ ۱۳۹۳ھ کو دوسرامباحثہ۱۳۹۴ھ کو۔ دونوں مرتبہ حضرت نانوتوی ؒ انتہائی کا میابی کے ساتھ لوٹے۔ ان مباحثوں کی باقاعدہ روئیداد چھپی پہلے مباحثہ کی روئیداد کا نام ہے میلہ خدا شناسی دوسرے کی روئیداد کا نام ہے مباحثہ شاہجہانپور۔خود حضرت نانوتویؒ نے وہاں جانے سے قبل ایک تحریر لکھی جو حجۃ الاسلام کے نام سے طبع ہوئی ۔ ان مباحثوں میں کئی باتیں قابل غور ہیں۔
    ۱) بریلی اور اس کے اطراف کے مسلمانوں نے بڑے اہتمام کے ساتھ آپ کو اس میں شمولیت کی دعوت دی۔

    (میلہ خدا شناسی ص۸،۹سوانح عمری ص۱۵طبع مکتبہ رشیدیہ لاہور)
    ۲)مسلمانوں نے آپ کو کفر کے مقابلہ میں اسلام کو سچا ترجمان تسلیم کیا
    ۳)کافروں نے بھی آپ کو مسلمانوں کا بڑا عالم مانا۔
    ۴) آپ کی جیت کو اسلام اور مسلمانوں کی جیت مانا گیا۔
    ۵) آپ نے ان مباحثوں میں جابجا عقیدئہ ختم نبوت کوبیان کیااور یہ ثابت کیا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی نہ ہوگا اب نجات صرف اور صرف نبی کریم ﷺ پر ایمان لانے میں اور آپ کی اتباع میں ہے۔اس سے ثابت ہواکہ حضرت نانوتویؒ نہ صرف یہ کہ آنحضرت ﷺکواللہ کاآخری نبی مانتے تھے بلکہ آپ اس عقیدے کے بہت بڑے مبلغ تھے۔حضرت کی مکمل عبارات ان شاء اللہ کتاب ’’ نبی الانبیاء ﷺ‘‘ میں دی جائیں گی اور اگر اللہ نے چاہا تو اس نام کے ساتھ الگ بھی شائع کی جائیں گی۔
    ’’حضرت نانوتویؒ اور خدمات ختم نبوت‘‘

    آپ کی وفات کے بعد مرزا قادیانی کا فتنہ اٹھاقادیانی نے نبوت کا دعوی کیا پوری امت نے قادیانی پر کفر کا فتوی لگایا۔کیونکہ ختم نبوت کا عقیدہ ایسا ٹھوس عقیدہ ہے جس میں امت مسلمہ نے کبھی اختلاف نہ کیاایک دن راقم نے ایک مرزائی قاضی محمد نذیرکی ایک چھوٹی سی کتاب دیکھی جس کا نام تھا۔
    ’’احمدیت پر اعتراضات کے جوابات‘‘

    راقم کو یہ دیکھ کر بڑی حیرت اور دکھ ہوا کہ اس مرزائی نے نبی کریم ﷺ کے بعد نبوت کے جاری ناننے والوں میںبعض اکابر کے ساتھ حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ کا ذکر بھی کیا اور ان کی مشہور کتاب تحذیر الناس سے ایک عبارت بھی پیش کی ہے۔(دیکھئے احمدیت پر اعتراضات کے جوابات ص۱۰)حالانکہ یہ عقیدہ ایسا ہے جس میں کبھی اختلا ف ہوا ہی نہیںوہ کونسا مسلمان ہے جو ختم نبوت کا قائل نہ ہو۔(ان حضرت کی وہ عبارات اور ان کے صحیح معنی ان شاء اللہ سورۃ احزاب سے دلائل ختم نبوت کے ضمن میں ذکر ہوں گے)
    مرزائیوں کے اس الزام کا جواب اتنا ہی کافی تھا کہ تحذیرالناس سے کئی سال بعد یہ شاہجہانپور میں یہ مباحثے ہوئے ہیں چنانچہ تحذیر الناس پہلی مرتبہ مطبع صدیقی سے ۱۲۸۹ھ ۱۸۷۳ء کو چھپی(حاشیہ قاسم العلوم ص۸۴ از پروفیسر انوار الحسن شیرکوٹی ) جبکہ شاہجہانپور کا پہلا مباحثہ ۱۲۹۳ھ کو ہوا۔ اگر بالفرض حضرت نانوتویؒ عقیدئہ ختم نبوت کے منکر ہوتے تو اول تو مسلمان آپ کو اس میں دعوت ہی نہ دیتے دوسرے جب آپ نے وہاں عقیدہ ختم نبوت کوبیان کیا اس وقت عیسائی یا ہندو کہہ دیتے کہ تم تو اس کے قائل ہی نہیں۔ان میں پنڈت دیانند سرسوتی بھی تھاجو بعد میں بھی آپ سے خط وکتابت کرتا رہا مقابلے سے بھاگتا رہا مگر تحذیر الناس کی عبارات کو نہ چھیڑا۔بلکہ حضرت نانوتویؒ کو مسلمانوں کا بڑا عالم تسلیم کرتارہا(دیکھئے انتصار الاسلام ص۳) آپ کے نام خطوط میں لکھتا تھا پیشوائے دین اسلام مولوی محمد قاسم صاحب(دیکھئے قاسم العلوم حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒص۳۸۸)
    اس لئے حضرت نانوتویؒ کو ختم نبوت کا منکر کہنا بالکل باطل اور بے بنیاد بات ہے۔اس کے باوجود راقم الحروف مناسب جانا کہ حضرت نانوتویؒ کی ایسی عبارات کی مفصل توضیح کردے تاکہ کسی شخص کو حضرت پر ایسا الزام لگانے کی جرات نہ ہو اور ان کی اس موضوع پر خدمات کو اجاگر کرے اس سلسلے کی کڑی یہ ایک کتاب بھی ہے۔

    راقم الحروف اپنی اس کاوش کا
    انتساب

    عقیدئہ ختم نبوت کے عظیم مجاہدحجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے نام کرتا ہے اس امید پر کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ہمیں بھی عقیدئہ ختم نبوت کے مبلغین کے خدام میں شامل فرمائے آمین

    فقط
    بندہ محمد سیف الرحمن قاسم عفی عنہ
    جامعۃ الطیبات للبنات الصالحات
    ۴ کنور گڑھ کالج روڈ گوجرانوالہ پاکستان
    ۲۲ جمادی الاولیٰ ۱۴۲۹ھ ۲۸مئی ۲۰۰۸ء

اس صفحے کی تشہیر