1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

امت محمدیہ ﷺ کی اصلاح کے لئے بنی اسرائیل کے ایک نبی کے آنے کے تو مسلمان بھی قائل ہیں ؟

خادمِ اعلیٰ نے 'قادیانیت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ دسمبر 16, 2014

  1. ‏ دسمبر 16, 2014 #1
    خادمِ اعلیٰ

    خادمِ اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ جون 28, 2014
    مراسلے :
    352
    موصول پسندیدگیاں :
    457
    نمبرات :
    63
    پیشہ :
    طالب علم
    مقام سکونت :
    سانگلہ ہل
    قادیانی مربی اکثر عوام الناس کو یہ دھوکہ دیتے ہیں کہ دیکھو مسلمان بھی یہ کہتے ہیں کہ امت محمدیہ کی اصلاح کے لئے ایک نبی نے آنا ہے اور ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ ایک نبی نے آنا تھا ، فرق صرف یہ ہے کہ مسلمان کہتے ہیں کہ وہ بنی اسرائیل کے پرانے نبی حضرت عیسیٰ علیہ اسلام ہوں گے اور ہم کہتے ہیں کہ کسی پرانے نبی نے نہیں آنا بلکہ اسی امت میں سے ایک نئے نبی نے آنا تھا جو کہ مرزا غلام قادیانی ہے ۔
    جواب

    مسلمانوں کا ہر گز یہ عقیدہ نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ اسلام نے اس امت کی اصلاح کے لئے آنا ہے ، احادیث میں وضاحت کے ساتھ مذکور ہے کہ وہ دجال کے قتل اور کسر صلیب وغیرہ کے لئے تشریف لائیں گے جس سے ثابت ہوا کہ وہ یہودیوں اور بگڑے ہوئے عیسائیوں کی اصلاح کے لئے نازل ہوں گے نہ کہ دین اسلام اور امت محمدیہ ﷺ کی اصلاح کے واسطے ، اللہ کی حکمت نے یہ چاہا کہ وہ پیغمبر جنہیں ایک گروہ خدا بنا کر گمراہ ہوا اور دوسرے گروہ نے ان کی نبوت کا انکار کرکے انہیں جھوٹا نبی کہا اور اپنی دانست میں طرح طرح کے عذاب دے کر صلیب پر قتل کر چکے اسی نبی کو ان دونوں گروہوں کے کذب کو ظاہر کرنے اور ان کے زعم فاسد کو توڑنے کے لئے زندہ رکھے اور وہ خود اتر کر ان یہودوانصاریٰ کے سب عقائد کو باطل کریں ، امت مسلمہ کا ہر گز یہ عقیدہ نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کو دوبارہ بطور نبی امت محمدیہ کی طرف مبعوث کیا جائے گا ۔
    آپ کی بعثت اصطلاحی صرف بنی اسرائیل کے لئے تھی اور ایک خاص وقت تک تھی ، اب آسمان سے نازل ہونے کے بعد آپ اپنی نبوت یا اپنی کتاب " انجیل " کی تبلیغ نہیں کرسکیں گے بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت وکتاب کے تابع ہوکر نازل ہوں گے ۔
    • Like Like x 3
  2. ‏ دسمبر 20, 2014 #2
    لبید

    لبید رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ دسمبر 10, 2014
    مراسلے :
    52
    موصول پسندیدگیاں :
    0
    نمبرات :
    8
    جنس :
    مذکر
    ’’آپ کی بعثت اصطلاحی صرف بنی اسرائیل کے لئے تھی اور ایک خاص وقت تک تھی ، اب آسمان سے نازل ہونے کے بعد آپ اپنی نبوت یا اپنی کتاب " انجیل " کی تبلیغ نہیں کرسکیں گے بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت وکتاب کے تابع ہوکر نازل ہوں گے ۔‘‘
    یہ کہاں لکھا ہے؟؟آپ نے اپنی پوسٹ میں سارے دعویٰ کئے کوئی دلیل نہیں دی۔کوئی قرآنی آیت جہاں یہ بیان ہو کہ حضرت عیسی آکر انجیل کی نہیں بلکہ مسلمانوں کی شریعت کی پیروی کریں گے۔۔۔ تابع تو وہ موسی کے تھے ان کی پیروی کیسے چھوڑیں گے؟؟
    براۃ مہربانی کوئی دلیل بھی تو دیں۔
  3. ‏ دسمبر 20, 2014 #3
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    رکنیت :
    ‏ جون 29, 2014
    مراسلے :
    15,772
    موصول پسندیدگیاں :
    3,122
    نمبرات :
    113
    جنس :
    مذکر
    پیشہ :
    بائیومیڈیکل انجینیئر
    مقام سکونت :
    لاہور
    حضرت عیسی علیہ السلام آئیں گے یا نہیں ۔ آئیں آپ کے نبی یعنی مرزا غلام احمد قادیانی سے فیصلہ لیتے ہیں

    [​IMG]
  4. ‏ دسمبر 21, 2014 #4
    خادمِ اعلیٰ

    خادمِ اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ جون 28, 2014
    مراسلے :
    352
    موصول پسندیدگیاں :
    457
    نمبرات :
    63
    پیشہ :
    طالب علم
    مقام سکونت :
    سانگلہ ہل
    سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ کا بیان ہے، رسول اﷲ نے فرمایا:
    اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، عنقریب عیسیٰ بن مریم علیہ السلام تمہارے درمیان ایک عادل حکمران کی حیثیت سے نزول فرماہوں گے ۔ وہ صلیب کو توڑ کر )اسکاخاتمہ کر) ڈالیں گے۔ خنزیر کو قتل کردیں گے۔ جزیہ کو ختم کردیں گے۔ اور مال ودولت کی اس قدرریل پیل ہوجائے گی کہ کوئی اسے لینے کو تیار نہ ہوگا۔
    سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: تم چاہوتو یہ آیت پڑھ کردیکھ لو :
    وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا )159) )النساء)
    اور اھل کتاب میں سے کوئی بھی ایسانہ ہوگا جو اس کی یعنی مسیح علیہ السلام کی وفات سے پہلے پہلے ان پر ایمان نہ لے آئے گا اور وہ )مسیح) قیامت کے دن ان لوگوں کے خلاف گواہ ہوگا ۔ )صحیح البخاری ، کتاب الانبیاء ، حدیث:۳۴۴۸ ۔باب نزول عیسیٰ بن مریم صحیح مسلم، باب بیان نزول عیسیٰ بن مریم حاکماً)
  5. ‏ دسمبر 21, 2014 #5
    لبید

    لبید رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ دسمبر 10, 2014
    مراسلے :
    52
    موصول پسندیدگیاں :
    0
    نمبرات :
    8
    جنس :
    مذکر
    جناب آپ نے میری پوسٹ غور سے نہیں پڑھی لکھا ہے کہ
    ’’آپ کی بعثت اصطلاحی صرف بنی اسرائیل کے لئے تھی اور ایک خاص وقت تک تھی ، اب آسمان سے نازل ہونے کے بعد آپ اپنی نبوت یا اپنی کتاب " انجیل " کی تبلیغ نہیں کرسکیں گے بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت وکتاب کے تابع ہوکر نازل ہوں گے ۔‘‘
    اپنی اس بات کا حوالہ دو؟؟؟؟ مجھے بھی پتا کہ عیسیٰ ّعلیہ السلام کے آنے کی بشارت تھی
  6. ‏ دسمبر 22, 2014 #6
    خادمِ اعلیٰ

    خادمِ اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ جون 28, 2014
    مراسلے :
    352
    موصول پسندیدگیاں :
    457
    نمبرات :
    63
    پیشہ :
    طالب علم
    مقام سکونت :
    سانگلہ ہل
    اپ عیسیٰ علیہ اسلام کی بعثت صرف بنی اسرائیل کے لئے تھی کیا آپ کو اس بات پر کوئی شک ؟ جیسا کہ قرآن مجید میں کہا گیا کہ آپ کو بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بیجھا گیا ۔
    اب آسمان سے نازل ہونے کے بعد آپ آپنی نبوت یا آپنی کتاب " انجیل " کی تبلیغ نہیں کر سکیں گے کیونکہ آپ کی بعثت اور شریعت بنی اسرائیل کے لئے مخصوص تھی ، وہ صرف ان لوگوں کے لئے تھی اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو آپ کے بعد کسی اور کی شریعت قابل عمل نہیں رہی ۔
    اگر آپ کو ان کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہونے پر اعتراض ہے تو واضح بتائیں ؟ اگر ایسا ہے تو مرزا نے تمام انبیاء کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں داخل کیا ہے ۔
    اگر پھر آپ کو اعتراض ہے تو آپ اس کے برخلاف دکھا دیں ۔ کہ عیسیٰ علیہ اسلام کی بعثت صرف بنی اسرائیل کے لئے نہیں تھی ۔ اوربعدنزول من السماء آپ آپنی نبو ت اور کتاب کی تبلیغ کریں گے اور آنحضرت صلیا للہ علیہ وسلم کے تابع نہیں ہوں گے ۔ شکریہ
  7. ‏ دسمبر 23, 2014 #7
    لبید

    لبید رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ دسمبر 10, 2014
    مراسلے :
    52
    موصول پسندیدگیاں :
    0
    نمبرات :
    8
    جنس :
    مذکر
    یہی تو میں پوچھا رہا کہ اب کیسے وہ بنی اسرائیل کے رسول نہیں رہے؟؟ اس کا کوئی حوالہ دو۔قرآن میں صرف یہ لکھا ہے و رسولا الی بنی اسرائیل کہ وہ (عیسی علیہ السلام) بنی اسرائیل کی طرف رسول ہے۔ یہ جملہ فعلیہ نہیں ہے اسمیہ ہے جوماضی اور حال،مستقبل پر دلالت کرتاہے۔ یہ نہیں کہا کہ وہ بنی اسرائیل کی طرف رسول تھا۔بلکہ فرمایا کہ وہ رسول ہے بنی اسرئیل کی طرف۔ اب اگر عیسی آئیں گے تو یہ آیت کہاں جائے گی؟؟
    میں یہی پوچھ رہا کہ اس بات کا ثبوت قرآن و حدیث سے دو کہ نبی اسرئیل والی عیسی اب دوبارہ آکر انجیل کے تابع نہیں ہونگے بلکہ امت محمدیہ کی شریعت پڑھیں گے؟
    میں نے دیکھا دیا کہ قرآن میں لکھا ہے کہ وہ بنی اسرائیل کی طرف رسول ہیں۔
    اب آپ ثبوت دو۔۔ میں نے ثبوت مانگا تھا مگر اب تک آپ کوئی آیت اپنی دلیل میں پیش نہیں کر سکے۔
  8. ‏ دسمبر 23, 2014 #8
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن عملہ منتظم اعلی

    رکنیت :
    ‏ جون 28, 2014
    مراسلے :
    2,398
    موصول پسندیدگیاں :
    1,313
    نمبرات :
    113
    جنس :
    مذکر
    پیشہ :
    ٹیچنگ ، حکمت
    مقام سکونت :
    گوجرانوالہ
    آپ کو صرف و نحو آتی ہے تو آپ کو بات سمجھانی آسان رہے گی میں آیت لکھتا ہوں اور آپ کو سمجھاتا ہوں کہ یہ جملہ فعلیہ ہے یا اسمیہ
    وَرَ‌سُولًا إِلَىٰ بَنِي إِسْرَ‌ائِيلَ أَنِّي قَدْ جِئْتُكُم بِآيَةٍ مِّن رَّ‌بِّكُمْ ۖ أَنِّي أَخْلُقُ لَكُم مِّنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ‌ فَأَنفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيْرً‌ا بِإِذْنِ اللَّـهِ
    اور (عیسیٰ) بنی اسرائیل کی طرف پیغمبر (ہو کر جائیں گے اور کہیں گے) کہ میں تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں وہ یہ کہ تمہارے سامنے مٹی کی مورت بشکل پرند بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ خدا کے حکم سے (سچ مچ) جانور ہو جاتا ہے
    آیت مذکورہ میں جملہ قَدْ جِئْتُكُم دلالت کرتا ہے کہ یہ تمام بحث زمانہ ماضی کی ہو رہی ہے کہ عیسی علیہ السلام فرمائیں گے کہ میں آیا تھا تمہارے پاس یعنی یہ سابقہ ادوار کا کلام ہے نہ کہ مستقبل میں جب وہ آسمان سے نزول فرمائیں گے تو اس وقت کی بات ہے بلکہ نزول کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو وہ پرانی ماضی والی بات یاد کروائیں گے ۔


  9. ‏ دسمبر 23, 2014 #9
    لبید

    لبید رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ دسمبر 10, 2014
    مراسلے :
    52
    موصول پسندیدگیاں :
    0
    نمبرات :
    8
    جنس :
    مذکر
    جناب ایسے نہیں ہوتا حضرت عیسی کا قول تو ویسے ہی ماضی میں ہے کیوں کہ وہ بنی اسرائیل میں آئے۔آیت کے شروع میں اللہ تعالیٰ فرما رہا کہ وہ بنی اسرائیل کا رسول ہے۔۔اگے اس بنی اسرائیل میں آمد کی وضاحت آگئی کیونکہ آگے ان کی آمد کا قصہ ہے جو پھر حال کی جملہ میں ہے اخلق اور انفخ ۔۔مگر وہ تصریح اپنی جگہ رہی کہ وہ رسول بنی اسرائیل کا ہی ہے۔۔۔۔ کیونکہ آج عیسی علیہ السلام آجائیں گے تو یہ آیت کہاں جائے گی؟؟و رسولا الی بنی اسرائیل۔۔۔باقی حصہ تو ماضی کا ہے۔ بہر حال یہ تو ضمنی بات تھی اس کو چھوڑیں اور اس بات کا حوالہ دیں ۔۔۔۔بات کو گھما گھما کر کہاں لے آئیں ہیں۔ اصل بات جا جواب دو نہ ذرا
    میں پہلے پوسٹ سےیہی پوچھ رہا کہ اس بات کا ثبوت قرآن و حدیث سے دو کہ نبی اسرئیل والی عیسی اب دوبارہ آکر انجیل کے تابع نہیں ہونگے بلکہ امت محمدیہ کی شریعت پڑھیں گے؟
  10. ‏ دسمبر 23, 2014 #10
    لبید

    لبید رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ دسمبر 10, 2014
    مراسلے :
    52
    موصول پسندیدگیاں :
    0
    نمبرات :
    8
    جنس :
    مذکر
    آپ نے لکھا تھا
    ’’آپ کی بعثت اصطلاحی صرف بنی اسرائیل کے لئے تھی اور ایک خاص وقت تک تھی ، اب آسمان سے نازل ہونے کے بعد آپ اپنی نبوت یا اپنی کتاب " انجیل " کی تبلیغ نہیں کرسکیں گے بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت وکتاب کے تابع ہوکر نازل ہوں گے ۔‘‘
    اس کی دلیل بھی دو یہ محض دعوی ہے اور دلیل دینا آپ کے ذمہ ہے۔

اس صفحے کی تشہیر