1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

امام مہدی کا دورِ حکومت معاشی خوشحالی اور عوام میں وسائل کی تقسیم کے اعتبار سے بے مثال ہو گا

مبشر شاہ نے 'القول المعتبر فی الامام المنتظر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 7, 2015

  1. ‏ فروری 7, 2015 #1
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن عملہ منتظم اعلی

    فصل ہفتم


    امام مہدی علیہ السلام کا دورِ حکومت معاشی خوشحالی اور عوام میں وسائل کی منصفانہ تقسیم کے اعتبار سے بے مثال ہوگا

    1. عن ابی سعید نالخدری رضی الله عنه قال قال رسول اﷲ صلی الله علیه و آله و سلم : یخرج فی آخر امتی المهدی یسقیه اﷲ الغیث و یخرج الارض نباتها و یعطی المال صحاحا و تکثر الماشیة و تعظم الامة یعیش سبعا او ثمانیا یعنی حججا.
    قال ابو عبداﷲ هذا حدیث صحیح الاسناد ولم یخرجاه و وافقه الذهبی
    حاکم، المستدرک، 4 : 601، رقم : 8673

    حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا میری امت کے آخری دور میں مہدی پیدا ہونگے۔ اللہ تعالیٰ ان پر خوب بارش برسائے گا اور زمین اپنی پیداوار باہر نکال دے گی اور وہ لوگوں کو مال یکساں طور پر دیں گے۔ ان کے زمانۂ (خلافت) میں مویشیوں کی کثرت اور امت کی عظمت ہوگی (وہ خلافت کے بعد) سات سال یا آٹھ سال زندہ رہیں گے۔

    2. عن ابی سعید نالخدری رضی الله عنه قال قال رسول اﷲ صلی الله علیه و آله و سلم ابشرکم بالمهدی یبعث فی امتی علی اختلاف من الناس و زلزال فیملأ الارض قسطا و عدلا کما ملئت جورا و ظلما یرضی عنه ساکن السماء و ساکن الارض یقسم المال صحاحا، قال له رجل ما صحاحا؟ قال بالسویة بین الناس و یملأ اﷲ قلوب امة محمد صلی الله علیه و آله و سلم غنی و یسعهم عدله حتی یأمر منادیا فینادی فیقول : من له فی المال حاجة؟ فما یقوم من الناس الا رجل واحدفیقول له! ائت السدان یعنی الخازن فقل له ان المهدی یامرک ان تعطینی مالا فیقول له احث فیحثی حتی اذا جعله فی حجره و ائتزره ندم فیقول کنت اجشع امة محمد صلی الله علیه و آله و سلم نفسا او عجز عنی ماوسعهم؟ قال فیرده فلا یقبل منه فیقال له انا لا نأخذ شیئا اعطیناه فیکون کذالک سبع سنین او ثمان سنین او تسع سنین ثم لا خیر فی العیش بعده اوقال ثم لا خیر فی الحیاة بعده.
    رواه الترمذی و غیره باختصار کثیر و رواه احمد باسانیده و ابو یعلی باختصار کثیر و رجالهما ثقات
    i. احمد بن حنبل، المسند، 3 : 37، رقم : 11344
    ii. احمد بن حنبل، المسند، 3 : 52، رقم : 11502
    iii. هیثمی، مجمع الزوائد، 7 : 314

    حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا میں تمہیں مہدی کی بشارت دیتا ہوں جو میری امت میں اختلاف و اضطراب کے زمانہ میں بھیجے جائیں گے تو وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جس طرح وہ (ان سے پہلے) ظلم و جور سے بھری ہوگی۔ زمین اور آسمان والے ان سے خوش ہوں گے۔ وہ لوگوں کو مال یکساں طور پر دیں گے (یعنی اپنی عطا میں وہ کسی سے امتیاز نہیں برتیں گے) اللہ تعالیٰ (اُن کے دورِ خلافت میں) میری امت کے دلوں کو استغناء و بے نیازی سے بھر دے گا۔ (اور بغیر امتیاز و ترجیح کے) اُن کا انصاف سب کو عام ہوگا وہ اپنے منادی کو حکم دیں گے کہ عام اعلان کر دے کہ جسے مال کی حاجت ہو (وہ مہدی کے پاس آ جائے اس اعلان پر) مسلمانوں کی جماعت میں سے بجز ایک شخص کے کوئی بھی نہیں کھڑا ہوگا۔ مہدی اس سے فرمائیں گے، خازن کے پاس جاؤ اور انہیں کہو کہ مہدی نے مجھے مال دینے کا تمہیں حکم دیا ہے (یہ شخص خازن کے پاس پہنچے گا) تو خازن اس سے کہے گا اپنے دامن میں (حسب تمنا) بھر لے چنانچہ وہ (حسب خواہش) دامن میں بھر لے گا اور خزانے سے باہر لائے گا تو اسے (اپنے اس عمل پر) ندامت ہوگی اور (اپنے دل میں کہے گا کیا) امت محمدیہ علی صاحبہ ا الصلوۃ والسلام میں سب سے بڑھ کر لالچی اور حریص میں ہی ہوں یا یوں کہے گا۔ میرے ہی لئے وہ چیز ناکافی ہے جو دوسروں کے واسطے کافی و وافی ہے۔ (اس ندامت پر) وہ مال واپس کرنا چاہے گا۔ مگر اس سے یہ مال قبول نہیں کیا جائے گا اور کہہ دیا جائے گا کہ ہم دے دینے کے بعد واپس نہیں لیتے۔ (امام) مہدی عدل و انصاف اور احسان و عطا کے ساتھ آٹھ یا نو سال زندہ رہیں گے۔ ان کی وفات کے بعد زندگی میں کوئی خیر (یعنی لطفِ زندگی باقی) نہیں (رہے گا)۔

    3. عن ابی هریرة رضی الله عنه قال ذکر رسول اﷲ صلی الله علیه و آله و سلم المهدی قال ان قصر فسبع والاثمان والافتسع ولیملأن الأرض قسطا کما ملئت ظلما و جورا (1) رواه البزار و رجاله ثقات
    (1) هیثمی، مجمع الزوائد، 7 : 316

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مہدی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا اگر ان کی مدت خلافت کم ہوئی تو سات برس ہوگی ورنہ آٹھ یا نو سال ہوگی وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ جس طرح اس سے پہلے ظلم و جور سے بھری ہوگی۔

    4. عن جابر رضی الله عنه عن النبی صلی الله علیه و آله و سلم قال یکون فی امتی خلیفة یحثی المال فی الناس حثیا لا یعده عدا ثم قال والذی نفسی بیده لیعودن
    رواه البزار و رجاله رجال الصحیح.
    i. حاکم، المستدرک، 4 : 501، رقم : 8400
    ii. هیثمی، مجمع الزوائد، 7 : 316
    iii. نعیم بن حماد، الفتن، 1 : 362، رقم : 1055

    حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا۔ میری امت میں ایک خلیفہ ہوگا جو لوگوں کو مال لبالب بھر بھر کے تقسیم کرے گا۔ شمار نہیں کرے گا۔ (یعنی سخاوت اور دریا دلی کی بناء پرشمار کئے بغیر کثرت سے لوگوں میں عطیات تقسیم کریں گے) اور قسم ہے اس ذاتِ پاک کی جس کی قدرت میں میری جان ہے، بالتحقیق (غلبہ اسلام کا دور) ضرور لوٹے گا (یعنی امرِ اسلام مضمحل ہو جانے کے بعد ان کے زمانہ میں پھر سے فروغ حاصل کر لے گا۔)

    5. و عن ابی هریرة رضی الله عنه عن النبی صلی الله علیه و آله و سلم قال یکون فی امتی المهدی ان قصر فسبع والاثمان والا فتسع تنعم امتی فیها نعمة لم ینعموا مثلها یرسل السماء علیهم مدرارا ولا یدخر الارض شیئا من النبات والمال کدوس یقوم الرجل یقول یامهدی اعطنی فیقول خذه.
    i. طبرانی، المعجم الاوسط، 5 : 311، رقم : 5406
    ii. هیثمی، مجمع الزوائد، 7 : 317

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا میری امت میں ایک مہدی ہوگا (انکی مدت خلافت) اگر کم ہوئی تو سات یا آٹھ یا نو سال ہوگی۔ میری امت اُن کے زمانہ میں اس قدر خوش حال ہوگی کہ اتنی خوش حالی اسے کبھی نہ ملی ہوگی۔ آسمان سے (حسبِ ضرورت) موسلا دھار بارش ہوگی اور زمین اپنی تمام پیداوار کو اگا دے گی۔ ایک شخص کھڑا ہو کر مال کا سوال کرے گا تو مہدی کہیں گے (اپنی حسبِ خواہش خزانہ میں جا کر) خود لے لو۔

    6. عن ابی سیعد نالخدری صعن النبی صلی الله علیه و آله و سلم قال یکون فی امتی المهدی ان قصرفسبع والا فتسع تنعم امتی فیه نعمة لم ینعموا مثلها قط تؤتی الارض اکلها لاتدخرعنهم شیئا والمال یومئذ کدوس. یقوم الرجل یقول یا مهدی اعطنی فیقول خذ.
    i. ابن ماجه، السنن، 2 : 1366، رقم : 4083
    ii. حاکم، المستدرک، 4 : 601، رقم : 8675
    iii. ابن ابی شیبه، المصنف، 7 : 512، رقم : 37638
    iv. ابو عمر والدانی، السنن الوارده فی الفتن، 5 : 1035، رقم : 550

    حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا میری امت میں مہدی ہوگا جو کم سے کم سات سال ورنہ نو سال تک رہے گا۔ ان کے زمانے میں میری امت اتنی خوشحال ہوگی کہ اس سے قبل کبھی ایسی خوشحال نہ ہوئی ہوگی۔ زمین اپنی ہر قسم کی پیداوار ان کے لئے نکال کر رکھ دے گی اور کچھ بچا کر نہ رکھے گی اور مال اس زمانے میں کھلیان میں اناج کے ڈھیر کی طرح پڑا ہوگا حتی کہ ایک شخص کھڑا ہو کر کہے گا اے مہدی! مجھے کچھ دیجئے۔ وہ فرمائیں گے (جتنا مرضی میں آئے) اٹھا لے۔

    7. عن ابی سعید نالخدری رضی الله عنه قال خشینا ان یکون بعد نبینا حدث فسألنا نبی اﷲ صلی الله علیه و آله و سلم قال ان فی امتی المهدی یخرج یعیش خمسا او سبعا او تسعا زیدنالشاک، قال قلنا و ما ذالک قال سنین قال فیجیئ الیه الرجل فیقول یا مهدی اعطنی اعطنی قال فیحثی له فی ثوبه ما استطاع ان یحمله.
    هذا حدیث حسن
    i. ترمذی، الجامع الصحیح، 4 : 506، رقم : 2232
    ii. احمد بن حنبل، المسند، 3 : 21، رقم : 11179

    ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ہم نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد وقوع حوادث کے خیال سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد کیا ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا میری امت میں مہدی ہوگا جو پانچ سات یا نو تک حکومت کرے گا (زید راوی حدیث کو ٹھیک مدت میں شک ہے) میں نے پوچھا کہ اس عدد سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا (اس عدد سے مراد) سال ہیں۔ ان کا زمانہ ایسی خیر و برکت کا ہوگا کہ ایک شخص ان سے آ کر سوال کرے گا اور کہے گا کہ اے مہدی! مجھے کچھ دیجئے، مجھے کچھ دیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ امام مہدی ہاتھ بھر بھر کر اس کو اتنا مال دے دیں گے جتنا وہ اٹھانے کی استطاعت رکھتا ہوگا۔
    • Like Like x 1
  2. ‏ اگست 10, 2015 #2
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر


    1 امام مہدی کے دور میں معاشی خوشحالی ہو گی.pptx.jpg
  3. ‏ اگست 10, 2015 #3
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر


    2 امام مہدی کے دور میں معاشی خوشحالی ہو گی.jpg
  4. ‏ اگست 10, 2015 #4
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    3 امام مہدی کے دور میں معاشی خوشحالی ہو گی.jpg
  5. ‏ اگست 10, 2015 #5
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    4 امام مہدی کے دور میں معاشی خوشحالی ہو گی.jpg
  6. ‏ اگست 10, 2015 #6
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    5 امام مہدی کے دور میں معاشی خوشحالی ہو گی.jpg
  7. ‏ اگست 10, 2015 #7
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر


    6 امام مہدی کے دور میں معاشی خوشحالی ہو گی.jpg
  8. ‏ اگست 10, 2015 #8
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر


    7 امام مہدی کے دور میں معاشی خوشحالی ہو گی.jpg

اس صفحے کی تشہیر