1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

القول الاتم فی حیاتِ عیسیٰ ابنِ مریم

محمد طلحہ نے 'آیاتِ نزول و حیات عیسیٰ علیہ السلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اگست 20, 2014

  1. ‏ اگست 20, 2014 #1
    محمد طلحہ

    محمد طلحہ رکن ختم نبوت فورم

    انتہائی تحقیقی مقالہ ہے ان شاءاللہ اسے جلد یہاں پوسٹ کرتا ہوں۔
    • Like Like x 1
  2. ‏ اگست 20, 2014 #2
    محمد طلحہ

    محمد طلحہ رکن ختم نبوت فورم

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    زمانہ حال میں اردو دان حضرات عربی کے کئی الفاظ کو اپنے یہاں ان معنوں میں استعمال کرتے ہیں جن معنوں میں عرب استعمال نہیں کرتے تھے۔جیسے "جہاد" وسیلہ"اردو دان طبقہ ان کے اور معنیٰ لیتا ہے اور عرب وہ معنیٰ نہیں کرتے ،اسی طرح "توفی" عربی زبان کا لفظ ہے۔جس کو اردو میں "وفات" اور"موت" کے معنے میں استعمال کیا جاتا ہے۔چناچہ کسی کے مرے ہوئے کی تاریخ بتانی ہو تو کہتے ہیں کہ فلاں متوفی سنہ فلاں ۔یعنی وہ فلاں سن میں فوت ہوا ہے ۔پھر ایک غلطی یہ بھی کرتے ہیں کہ اخیر حرف "ی" کو دیکھ کر اس سے ماقبل "ف" کو مکسور اور "ی" کو ساکن پڑھتے ہیں ۔جس سے وہ "مُتَوَفِی" بن جاتا ہے۔جبکہ اس کے معنی ہیں :"وفات دینے والا"۔ حالانکہ دفات دینے والا تو اللہ تعالیٰ ہے۔جیسا کہ قرآنِ مجید میں آیا ہے : انہ ھو امات و احییٰ:یعنی اس میں کوئی شک نہیں وہ اللہ ہی ہے جو مارتا بھی ہے اور جِلاتا ہے۔
    اور وفات پانے والے کو "مُتَوَفیٰ" لکھتے ہیں ۔یعنی عربی قائدہ کے مطابق "ف" کی فتح کے ساتھ "الف" کو "ی" کی شکل دیتے ہیں ۔جیسا کہ یحییٰ، موسیٰ،عیسیٰ،مصطفیٰ،مجتبیٰ،مرتضیٰ، وغیرہ کے آخر میں الف ہے،جو" ی" کی شکل میں لکھا جاتا ہے۔مگر عربی زبان میں "توفی" کے معنی ہیں "کسی چیزکو پورا پورا لے لینا" جیسا کہ آنے والی تحقیق سے معلوم ہوگا ۔ان شاء اللہ۔البتہ توفی کے معنی "موت" اور " "نیند " کے بھی آتے ہیں ۔ مگر وہ حقیقی معنی نہیں بلکہ مجازی ہیں ۔اسی بات کی وضاحت کے لئے یہ "مقالہ " پیشِ خدمت ہے۔اس کو بنظرِ انابت بغور پڑھیں ۔قادیانیوں کی طرف سے پیش کردہ لا یعنی شبہات اور توہمات دل سے نکل جائیں گے۔لیکن ضد کا کوئی علاج نہیں؟
    جاری ہے
    • Like Like x 2
  3. ‏ اگست 20, 2014 #3
    محمد طلحہ

    محمد طلحہ رکن ختم نبوت فورم

    بعض لوگ کہتے ہیں کہ :" فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي" کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ "جب تو نے مجھے فوت کر دیا" اور کہتے ہیں کہ ان معنوں کی تائید صحیح بخاری کی اس حدیث سے ہوتی ہے ،جس میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے میدان محشر میں فرشتوں کے جواب میں فرمایا تھا کہ " فلما توفیتنی۔۔۔۔کہ جب تک تو میں ان میں رہا ان کا حال دیکھتا رہا۔آلخ جس طرح اس حدیث میں "فلما توفیتنی" سے آنحضرت کی وفات مراد ہے اسی طرح قرآن مجید میں حضرت مسیح علیہ السلام کا قول "فلما توفیتنی " نقل ہے اس کا معنیٰ بھی یہی ہے کہ " پھر جب تو نے مجھے فوت کر دیا "
    بلکل اسی طرح :
    " تَوَفَّنِي مُسْلِمًا " "وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ يَتَوَفَّاكُمْ ۚ " "يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ " "إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَ‌افِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُ‌كَ " ان تمام آیات سے بھی وفات ثابت ہوتی ہے۔ اور کہتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام قرآن مجید کے غیر مبدل قانون "كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ " سے مستثنیٰ بھی ہر گز نہیں ہیں ۔
    لیکن ان کا یہ کہنا غلط ہے ۔کیونکہ :

    توفی کے معنے مع محاوراتِ عرب
    اس کا صحیح مطابقی معنی یہ ہے کہ: "پھر جب تو نے مجھے پورا پورا اپنے قبضہ میں لے لیا" کیونکہ اہل عرب کے یہاں "تَوَفِّی" کے یہی معنے مستعمل ہیں ۔چنانچہ:
    (1) لسان العرب و المنجد (ص911) نے اہل عرب کا محاورہ پیشکیا "توفیت عدد القوم" کہ میں نے سب قوم کی گنتی پوری پوری حاصل کر کی۔
    (2)معانی القرآن ج 1ص 219 میں حضرت امام محمد بن الحسن الشیبانی رحمہ اللہ تعالیٰ کے خالہ زاد بھائی حضرت امام ابو زکریا یحی بن زیاد عبد اللہ الاسلمی فراء کوفی نے "توفی" کے معنے لکھ کر استدلال میں یہ شعر لکھا کیا ہے

    ان بنی الا درد لیسومن احد
    ولا توفیھم قریش فی عدد

    یعنی بنی ادرد تو کسی گنتی میں نہیں ہیں ،اور قریش نے ان کی پوری پوری گنتی نہیں کی۔
    نیز امام فراء نے یہ شعر لکھنے کے بعد اہل عرب کا یہ محاورہ بھی اسی معنی میں لکھا ہے " توفیتہ المال" میں نے اس سے اپنا پورا پورا مال لے لیا۔
    (3) خلیفہء زمحشری علامہ لغوی مطرزی نے المغرب ج 2 ص 256 میں "توفاہ" کے معنے تحریر فرمائے ہیں "اخذ کلہ" اس نے وہ سارے کا سارا لے لیا۔
    اس کے بعد خالص عرب اور صحابی رسول حضرت عاصم بن عدی بن الحارث بن العجلان انصاری کا قول پیش کیا " واتوفی تمرک بخیبر" حضرت عاصم بن عدی نے اس آدمی کو کہا تھا کہ میں تیری سب کی سب کھجوریں لے لو ں گا ۔
    (4) المغرب ج 2ص 257 میں ہے کہ "و ف ی " سے جو کلمہ مرکب ہوتا ہے تو اس کا مطلب تمام اور کمال ہوتا ہے۔
    (5) تاج العروس ج 10 ص 394 میں علامہ زبیدی نے " توفاہ" کے معنے لکھے ہیں " ای لم یدع منہ شیئا" یعنی اس نے اُس کے پاس کچھ بھی نہیں چھوڑا ۔(یعنی سارا لے لیا)
    (6) نیز اہل عرب کا محاورہ ہے " توفیت منہ مال علیہ تاویلہ ای لم یبق علیہ شیء" میں نے اس سے قرض کا پورا پورا مال وصول کر لیا ۔(تاج العروس ج10 ص395)
    (7) امام فخر الدین رازی نے اپنی تفسی ج 2 ص 481 میں اہل عرب کا محاورہ تحریر فرمایا ہے " توفیت منہ دراھمی" کہ میں نے اپنے تمام درہم پورے پورے وصول کر لئے۔
    (8) علامہ جار اللہ ابو القاسم بن عمر زمحشری نے اساس البلاغہ ص 684 پر تحریر فرمایا " توفاہ استکملہ" یعنی توفاہ کے معنے ہیں اس نے اس کو مکمل لے لیا۔
    (9) علامہ احمد بن محمد بن علی فیوی مصباح المنیر ص 208میں لکھا کہ " توفی " اور "استیفاء" کے ایک ہی معنے ہیں ۔ یعنی کسی چیز کو پورا پورا لے لینا ۔
    (10) علامہ محمد طاہر فتنی نے مجمع بحار الانوار ج 3 ص 454 پر تحریر فرمایا کہ " وقد یکون قبضا لیس بموت" یعنی وفات کا اطلاق موت کے علاوہ قبض کر لینے پر بھی آتا ہے۔
    تلکہ عشرۃ کاملہ
    آپ نے دیکھ لیا کہ اہل لغت کے نزدیک "توفی" کے معنے پورا پورا لے لینے کے ہوتے ہیں ۔صرف موت کے لئے اس لفظ کا استعمال نہیں ہوتا ۔
    جاری ہے
    • Like Like x 1
    • Winner Winner x 1
  4. ‏ اگست 21, 2014 #4
    محمد طلحہ

    محمد طلحہ رکن ختم نبوت فورم

    اردو فارسی مترجمینِ قرآن "توفیتنی" کا کیا معنی کرتے ہیں؟

    اب دیکھئے حضرات مترجمین بھی اہل لغت اور اہل لسان عربوں کے مطابق "فلما توفیتنی" کا یہی معنیٰ کرتے ہیں۔ چنانچہ:

    (1) پس وقتیکہ بر گرفتی مرا(یعنی بر آسمان بُردی مرا) ۔(شاہ ولی اللہ )
    (2) پس آن ہنگام کہ مرافر اگر فتی یعنی رفع کر دی با آسمان۔ (حسینی)
    (3) جب تو نے مجھے بھر لیا ۔(شاہ عبد القادر)
    (4) پھر جب تو نے مجھ کو اُٹھا لیا۔(شیخ الہند)
    (5) جب آپ نے مجھ کو اُٹھا لیا۔(مرشد تھانوی)
    (6)جب تو نے مجھے اُٹھا لیا ۔(مرزا حیرت)
    (7) جب تو نے مجھ کو دنیا سے اٹھا لیا ۔(ڈپٹی نزیر احمد)
    (8) جب تو نے مجھ کو اٹھا لیا۔(دریا بادی)
    (9)پھر جب تو نے مجھ کو گم کر دیا یعنی ان کے بیچ میں سے معدوم کردیا ۔یعنی قبض کر لیا آسمان کی طرف اٹھا لینے سے ۔(ملیح آبادی)
    (10)پھر جب آپ نے میرا وقت پورا کر دیا ۔(ابو الاکلام)
    (11) جب اٹھایا تو نے مجھ کو۔(سیماب اکبر آبادی)
    (12) جب تو نے مجھ کو اٹھا لیا ۔(سحبان الہند)
    (13) جب تو نے مجھ کو اٹھا لیا۔(بلند شہری)
    (14) جب تو نے مجھ کو اٹھا لیا ۔(عبد الستار دہلوی)
    (15) جب تو نے مجھے دنیا سے اٹھا لیا ۔۔(فتح محمد جالندھری)
    (16 پھر جب آپ نے مجھ کو واپس بلا لیا۔(سید مودودی)

    قارئین کرام : قادیانی مرزا سے پہلے اور بعد کے ان مترجمین میں سے کسی نے بھی" توفی" کا معنی "موت" نہیں کیا ۔ کیا اب بھی قادیانی اپنی بے جا ضد پر اڑے رہیں گے؟
    • Like Like x 2
    • Winner Winner x 1
  5. ‏ دسمبر 11, 2014 #5
    لبید

    لبید رکن ختم نبوت فورم

    طلحہٰ صاحب کا مطلب ہے کہ توفی کا لفظ موت کے لئے استعمال نہیں ہوتا۔۔انہوں نے جو مثالیں دی ہیں وہ سب کی سب کسی انسان کے متعلق نہ تھیں بلکہ ان اشیاء کے متعلق تھیں جن کی موت کا سوال نہیں ہوتا۔کبھی کسی نے یہ نہیں کہا کہ گھجور فوت ہوگئی ہو یا مال وفات پا گیا۔اس لئے یہ مثالیں تو بالکل غلط ہیں۔بات تو انسان کے مرنے کی ہو رہی ہے۔اور یاد رہے کہ موت صرف اللہ تعالیٰ دیتا ہے۔چنانچہ احادیث سے چند مثالیں پیش ہیں۔
    ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ وَغُسِّلَ وَكُفِّنَ فِي أَثْوَابِهِ
    حضرت عثمان بن مظعون کے متعلق آتا ہے ’’پس جب وہ وفات پا گئے تو انکے کپڑوں میں کفن دیا گیا۔‘‘بخاری باب دخول علی المیت اذا ادرج
    أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ تَقُولُ: إِنَّ مِنْ نِعَمِ اللَّهِ عَلَيَّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوُفِّيَ فِي بَيْتِي
    حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ یہ اللہ کی نعمتوں میں سے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میںرے گھر میں فوت ہوئے۔بخاری باب مرض النبی و وفاتہ
  6. ‏ دسمبر 16, 2014 #6
    محمد طلحہ

    محمد طلحہ رکن ختم نبوت فورم

    جناب لبید صاحب: جناب نے لکھا ہے کہ "طلحہٰ صاحب کا مطلب ہے کہ توفی کا لفظ موت کے لئے استعمال نہیں ہوتا۔۔" لبید صاحب بندہ کی پیش کردہ لغت عرب و محاورات عرب کی دس مثالوں کے بعد بندہ نے لکھا تھا کہ "صرف موت کے لئے اس لفظ کا استعمال نہیں ہوتا ۔" یہ آخری الفاظ غور سے پڑھیں؟ اور یہ بتائیں کہ کہ کیا لغت کے ان اماموں نے یہ معنی غلط کیا ہے؟؟؟
    ان محاورات اور لغت کی عبارتوں کے بعد بندہ نے 16 ترجمے نقل کئے تھے ان سب نے" توفیتنی" کا معنی "موت" نقل نہیں کیا ۔۔۔۔۔ کیا ان سب نے قرآن کا ترجمہ غلط کیا ہے؟؟؟
    • Like Like x 2
  7. ‏ دسمبر 16, 2014 #7
    خادمِ اعلیٰ

    خادمِ اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    توفی کا حقیقی معنی " موت " نہیں ہے ، اگر کوئی جاننا چاہتا ہے تو وہ خادم اعلٰی سے رابطہ کرے
  8. ‏ دسمبر 16, 2014 #8
    لبید

    لبید رکن ختم نبوت فورم

    میں نے کہا تھا کہ آپ نے جتنی مثالین دیں وہ تمام چیزیں فوت نہیں ہوتیں۔آپ نے گھجور ،مال اور درھم کی مثال دی۔۔اب آپ خود بتائیں کی کیا یہ چیزیں فوت ہوتی ہیں؟؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔کبھی مال نہیں فوت ہوتا ہاں ختم ضرور ہوتا ہے۔نیز موت توفی کے معنوں میں مستعمل ہے جیسا کہ میں نے اوپر دو احادیث کے حوالے دیے۔۔۔کیا وہ غلط ہیں؟
    عربی میں ایک لفظ کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں اور ہر لفظ موقع اور محل کے لحاظ سے استعمال کیا جاتا ہے۔
  9. ‏ دسمبر 16, 2014 #9
    خادمِ اعلیٰ

    خادمِ اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    جی جی اس لئے کہا کہ " توفی " کا حقیقی معنی "موت " نہیں ۔ بلکہ " توفی " کا حقیقی معنی " پورا پورا لینا " ہے ۔
    • Like Like x 1
  10. ‏ دسمبر 16, 2014 #10
    لبید

    لبید رکن ختم نبوت فورم

    جناب توفی کا معنی پورا لینا بھی ہے نہ کہ صرف پورا پورا لینا۔۔ ہاں اگر آپ کو اصرار ہے تو پھر عربی لغت سے کوئی ایک مثال دو جس میں اللہ تعالی فاعل ہو اور انسان کی توفی ہو رہ ہو۔یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کو پورا پورا لے لیا۔۔۔قرآن مجید میں کئی جگہ یہ لفظ استعمال ہوا ہے جیسے فرمایا وَإِنْ مَا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ (الرعد 41) کیا ترجمہ کرو گے یہاں؟؟ پورا لینا یا وفات دینا؟؟

اس صفحے کی تشہیر