1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب

ام ضیغم شاہ نے 'جھوٹے مدعیانِ نبوت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ نومبر 28, 2014

  1. ‏ نومبر 28, 2014 #1
    ام ضیغم شاہ

    ام ضیغم شاہ رکن عملہ منتظم اعلی ناظم پراجیکٹ ممبر مہمان رکن ختم نبوت فورم

    اسود عنسی

    فتح مکہ 8 ھ کے بعد مختلف قبائل نے کثرت سے اپنے وفود آنحضرت ﷺ کی خدمت میں بھیجے اور بڑی تیزی سے لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے ،چنانچہ اسی وجہ سے 9 ھ کو سنۃ الوفود کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ آپ ﷺ کے دور حیات کے آخری حصے میں دو بدباطن افراد مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی نے عقیدۂ ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالتے ہوئے جھوٹا دعویٰ نبوت کیا ۔ اسی دوران آپ ﷺ پر مرض الموت طاری ہوا ۔ اسی بیماری کے اثنا میں آپ ﷺ نے ایک خواب دیکھا کہ آپ ﷺ کے دونوں ہاتھوں میں کنگن ہیں ۔ آپ ﷺ کو اس سے نفرت سی محسوس ہوئی ، آپ ﷺ نے ان پر پھونک ماری جس سے وہ دونوں اُڑ گئے ،اس کی تعبیر آپ ﷺنے یہ بتائی کہ ان کنگنوں سے یہ دونوں جھوٹے مدعیان نبوت ( مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی ) مراد ہیں اور دونوں عنقریب میرے ہی جانثاروں کے ہاتھوں انجام بد تک پہنچیں گے ( بعد میں یہ پیشن گوئی اسی طرح حرف بہ حرف صادق ہو ئی) ۔

    ” اسود عنسی “ یمن کا باشندہ تھا ۔ شعبدہ بازی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا ۔ اس کا لقب ذوالحمار ( گدھے والا ) بھی بتایا جاتا ہے کیونکہ اس کے پاس ایک سدھایاہوا گدھا تھا، یہ جب اس کو کہتا کہ خدا کو سجدہ کرو تو وہ سجدہ کرتا، بیٹھنے کو کہتا تو وہ بیٹھ جاتا ، کھڑے ہونے کو کہتا تو کھڑا ہوجا تا ۔ اس شعبدے بازی کی وجہ سے وہ لوگوں کو بے وقوف بناتا تھا کہ دیکھو ! ایک بے زبان جانوربھی میری تابعداری کرتا ہے ۔ اسی شعبدہ بازی کی وجہ سے لوگ اس سے متاثر ہوئے اور اس کو بہت جلد کامیابی حاصل ہوئی ۔ چند دن میں اس نے ہر طرف آتشِ فسادمشتعل کردیا ۔ اس کی موت حضور ﷺ کی حیات میں ہی ہوئی اور اس کو نبی ﷺ کے ایک جانثار صحابی حضرت فیروز رضی اللہ عنہ نے قتل کیا ۔

    مسیلمہ کذاب

    دوسرا مدعئی نبوت مسیلمہ کذاب تھا ۔ اسود عنسی کی کامیابی وپذیرائی دےکھ کر اس کو بھی جرأت ہوئی اور نبوت کا اعلان کرتے ہوئے کہا : ” مجھے محمد (ﷺ )نے شریکِ رسالت کرلیا ہے ۔ اس کی خود ساختہ نبوت کافتنہ کافی عرصہ تک رہا جس کو بڑے بڑے صحابہ نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر جڑ سے اکھاڑ دیا ۔ جس وقت اس نے نبوت کا دعویٰ کیا اس کی عمر سو سال سے بھی زیادہ ہوچکی تھی ۔ 10 ہجری کے آخر میں اس نے ایک خط آپ ﷺ کی خدمت میں بھیجا ،جس کے الفاظ کچھ یوں تھے : ” مسیلمہ رسول ( نعوذباللہ ) کی طرف سے محمد رسول (ﷺ) کی طرف ،میں رسالت میں تمہارا شریک کیا گیا ہوں ۔آدھی زمین ہماری ہے اور آدھی قریش کی ، مگر قریش ایسی قوم ہے جو ظلم کرتی ہے “۔ جس کا جواب آپ ﷺ نے ان الفاظ میں دیا ” شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ۔ محمد رسول اللہ (ﷺ)کی جانب سے مسیلمہ کذاب کے نام ۔ بعد حمد سلا م ہو اس پر جو راہ راست کی پیروی کرے ۔ پھر یہ تحقیق ہے کہ ساری زمین اللہ کی ہے ، اپنے بندوں میں سے وہ جس کو چاہتا ہے بخش دےتا ہے اور عاقبت پرہیزگاروں کے حصے میں ہے “۔

    آنحضرت ﷺ کی حیات میں یہ مسئلہ کسی نہ کسی طرح چلتا رہا ،مگر آپ ﷺ کے وفات پاتے ہی مسیلمہ کذاب نے اپنے پر پوری طرح کھول دیئے ۔ لوگوں کو اپنی جھوٹی نبوت کی طرف راغب کرنے کےلئے دین اسلام میں بہت سی ایسی تبدیلیاں کیں جو لوگوں کی نفسانی خواہشات کے عین مطابق تھیں تاکہ عوام کی اکثریت اس کی خانہ ساز نبوت پر ایمان لے آئے ۔ چنانچہ اس نے شراب حلال کردی ،زنا کو مباح کردیا ، نکاح بغیر گواہوں کے جائز کردیا، ختنہ کرنے کو حرام کردیا ، ماہ رمضان کے روزے ختم کردیئے ،تمام سنتیں ،نوافل وغیرہ ختم کردیں ، صرف فرض نماز باقی رکھی ۔

    مسیلمہ کذاب کی پذیرائی کو دیکھ کردوسرے مزید بد باطن لوگوں کوبھی دعویٰ نبوت کی جرات ہوئی جس میں طلیحہ اسدی بھی تھا ۔ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے فراست ایمانی سے آغاز خلافت ہی میں ان تمام ہنگاموں کی قوت کا پورا اندازہ لگا لیا تھا ۔ چنانچہ حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا تقرر طلیحہ مدعی نبوت کے مقابلے میں کیا ۔ طلیحہ اسدی کے ساتھ قبیلۂ طئے کا بڑا مجمع بھی تھا ، اس لئے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ جو قبیلہ طئے ہی سے تعلق رکھتے تھے ،کو اول اپنے قبیلے کی طرف روانہ کیا کہ ان کو سمجھا کر تباہی سے بچائیں ۔ انہوں نے اپنے قبیلے کو بہت سمجھایا جس کے نتیجے میں انہوں نے جھوٹے نبی کی حمایت ترک کرکے خلیفۂ اسلام کی اطاعت قبول کی ۔ اس طرح یہ مہم بغیر خون ریزی کے طے ہوگئی ۔ اسی طرح حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کے سمجھانے سے قبیلۂ جدیلہ نے بھی اطاعت قبول کرلی ۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جب طلیحہ اسدی کی سرکوبی کےلئے لشکر لے کر آگے بڑھے تو ان کے ساتھ قبیلۂ طئے کے ایک ہزار سوار بھی نصرت اسلام کےلئے کمر بستہ تھے ۔ طلیحہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں شکست کھائی اور ایک طرف بھاگ گیا ،وہاں پہنچ کر دوبارہ اسلام لایا ۔ امیر المؤمنین حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے تمام فتنوں کی سرکوبی کےلئے مجموعی طور پر گیارہ لشکر ترتیب دیئے تھے ، اس میں ایک دستہ حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ بن ابو جہل کی قیادت میں مسیلمہ کذاب کی سرکوبی کےلئے یمامہ کی طرف روانہ کیا اور ان کی مدد کےلئے حضرت شرحبیل رضی اللہ عنہ بن حسنہ کو کچھ فوج کے ساتھ ان کے پیچھے روانہ کردیا تھا اور عکرمہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ جب تک دوسرا لشکر آپ تک نہ پہنچے حملہ نہ کرنا ،شرحبیل رضی اللہ عنہ کی آمد سے پہلے ہی حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ نے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ کو شکست ہوئی اور پھر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کوجب ان کی شکست کی خبر ملی تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو ( جوکہ بنی طئے کی مہم سے فارغ ہوچکے تھے ) مسیلمہ کے خلاف معرکہ آراءہونے کا حکم دیا پور ایک لشکر ان کےلئے ترتیب دیا جس میں مہاجرین پر حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن خطاب رضی اللہ عنہ ( فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے بھائی ) اور انصار پر حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ اور حضرت براءبن عازب رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا ۔ جب حضرت خالد رضی اللہ عنہ یمامہ پہنچے تو مسیلمہ کذاب کے لشکر کی تعداد چالیس ہزار تک پہنچ چکی تھی جبکہ مسلمانوں کا لشکر 13 ہزار نفوس پر مشتمل تھا ۔ مسیلمہ کذاب نے جب حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی آمد کی اطلاع سنی تو آگے بڑھ کر عقر با نامی مقام پر پڑاؤ ڈالا ۔ اسی میدان میں حق وباطل کا مقابلہ ہوا ۔ اس جنگ میں بڑے بڑے صحابہ رضی اللہ عنہم شہید ہوئے، جن میں ثابت بن قیس ،حضرت زید بن خطاب رضی اللہ عنہما وغیرہ شامل ہیں ۔

    مسیلمہ اس جنگ کے دوران ایک باغ میں قلعہ بند چھپا رہا ۔ آخر کار اپنے خاص دستے کو لے کر میدان میں کود پڑا ۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے قاتل وحشی رضی اللہ عنہ نے ، جو اب مسلمان ہوچکے تھے اپنا مشہور نیزہ پوری قوت سے مسیلمہ پر پھینکا جس کی ضرب فیصلہ کن ثابت ہوئی اور مسیلمہ زمین پر گر کر تڑپنے لگا ۔ قریب ہی ایک انصاری صحابی کھڑے تھے ، انہوں نے اس کے گرتے ہی اس پر پوری شدت سے تلوار کا وار کیا جس سے مسیلمہ کا سر کٹ کر دور جاگرا ۔ اس سے مسلمانوں کا جذبہ اور بلند ہوگیا اور انہوں نے پورے زور سے دوسرا حملہ کیا یہاں تک کہ مسیلمہ کے چالیس ہزار کے لشکر جرار میں سے تقریباً 21 ہزار افراد موت کے گھاٹ اتاردئے گئے ۔

    منکر کے لئے نارِ جہنم ہے مناسب
    جو آپﷺ سے جلتا ہے وہ جل جائے تو اچھا


    مسلمانوں میں سے صرف 660 آدمی شہید ہوئے ۔مسیلمہ کذاب کی موت کے بعد اس کا قبیلہ بنی حنیفہ صدق دل سے دوبارہ اسلام میں داخل ہوگیا ۔ مؤرخین نے لکھا ہے کہ یہ جنگ (یمامہ ) جھوٹے مدعےان نبوت کے خلاف آخری معرکہ تھا جس کے بعد دور صدیقی رضی اللہ عنہ میں کسی اور شخص کو نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے کی ہمت نہ ہوسکی ۔
    آج کے دور میں جبکہ حضور اکرم ﷺ کی ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالنے کی کوششیں عروج پر ہیں ۔ اسی جذبہءصدیقی رضی اللہ عنہ کی ضرورت ہے ۔ اگر مسلمانوں میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم والی ایمانی غیرت باقی ہوتی تو نہ کسی کو ایسا جھوٹا دعویٰ کرنے کی ہمت ہوتی اور نہ ہی ملکہ برطانیہ کو دور حاضر کے شیطان اعظم (سلمان رشدی)کو سر کا خطاب دینے کی ہمت ہوتی ۔اور نہ ہی مختلف عیسائی اور یہودی لابیوں کو ذرائع ابلاغ پر حضور اکرم ﷺ کے گستاخانہ خاکے شائع اور نشر کرنے کی جرأت ہوتی ۔ اگر آج یہ سب کچھ ہورہا ہے اور حضور اکرم ﷺ ،صحابہ کرام وازواج مطہرات رضی اللہ عنہم وعنہن کی عزت وناموس محفوظ نہیں تو مجرم ہم بھی ہیں ۔ یہ ہماری غیر ضروری مصلحت کوشی اور نام نہاد معاملہ فہمی ہے ،جس نے کفار کو اس قدر دلیر کردیا ہے ۔ آج دنیا بھر کا کفر ہمیں للکار رہا ہے
    کاش !ہم اپنی ایمانی قوت وجرأت سے کفار کو بتاسکیں کہ ہم میں آج بھی صدیقی روح اور اسلاف کی جرأت موجود ہے ، ہم راکھ سہی مگر راکھ دبی چنگاریاں اب بھی باقی ہیں جو حشر برپا کرسکتی ہیں


    بشکریہ: سہ ماہی مجلہ ندائے حرمین
    مدیر کی آخری تدوین : ‏ نومبر 28, 2014
    • Like Like x 2
  2. ‏ نومبر 28, 2014 #2
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    ماشا اللہ بہت عمدہ
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر