1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

(اسلام کی مقدس شخصیتوں کے بارہ میں قادیانی متوازی نظام)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 28, 2015

  1. ‏ مارچ 28, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (اسلام کی مقدس شخصیتوں کے بارہ میں قادیانی متوازی نظام)
    جناب والا! علاوہ ازیں ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام میں مقدس ہستیوں کے مقابلے میں انہوں نے ایک متوازی نظام قائم کر رکھا ہے۔ صحابہ اور اہل بیت انتہائی واجب الاحترام ہستیاں ہیں۔ مثلاً امیرالمؤمنین، ام المؤمنین۔ اس متوازی نظام سے انتشار پیدا ہوا۔ پھر جب ہم (مسلمان) خوش ہوتے ہیں۔ وہ (قادیانی) خوش نہیں ہوتے۔ جب ہم ناخوش ہوتے ہیں وہ خوش ہوتے ہیں۔ پہلی جنگ عظیم میں جب انگریزوں نے عراق کو فتح کر لیا تو مسلمان ناخوش ہوئے۔ لیکن انہوںنے قادیان میں چراغاں کیا۔ ہم نے اﷲ کے فضل سے ایک الگ ملک حاصل کیا۔ کیونکہ ہماری سوچ ایک فرد واحد کی سوچ کی مانند تھی۔ ہم خواہ سندھی ہوں، بلوچ ہوں، پٹھان ہوں، پنجابی ہوں، نفسیاتی طور پر ہم ایک دوسرے سے پیوست ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا فہم اور ادراک ان سے بہت مختلف ہے۔ یہ مختصر بھی کمیٹی کے ذہن نشین رہنا چاہئے۔ گو کہ جیسا میں کہہ چکا ہوں۔ ان کی طرف سے جو کچھ کہا گیا ہے۔ اس پر بھی غور کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ مسلمانوں کی حمایت کریں گے۔
    جناب والا! اب میں اختتام کی طرف آتا ہوں۔ میں نے کافی وقت لیا ہے۔ اب میں دستور کے مطابق احمدیوں کی حیثیت کے بارے میں گذارشات کروں گا۔ فیصلہ خواہ کچھ بھی ہو۔ اراکین جو بھی راستہ اختیار کریں۔ یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ وہ پاکستانی ہیںا ور وہ شہریت کا پورا پورا حق رکھتے ہیں۔ ’’ذمی‘‘ یا دوسرے درجے کے شہری ہونے کا پاکستان میں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یاد رکھئے کہ پاکستان لڑ کر حاصل نہیں کیا گیا۔ بلکہ یہ مصالحت اور رضامندی سے حاصل کیاگیا تھا۔ یہ ایک معاہدہ تھا جس کی بنیاد دو قومی نظریہ پر تھی۔ ہندوستان میں ایک مسلمان قوم تھی اور دوسرے ہندو قوم۔ اس کے علاوہ چھوٹے چھوٹے ذیلی قومی گروہ تھے۔ پاکستان کی تخلیق کے ساتھ مسلمان قوم بھی تقسیم ہوگئی اور اس کا ایک حصہ ہندوستان میں رہ گیا۔ ہم ان کو بے یارومددگار نہیں چھوڑ سکتے تھے۔ کیونکہ پاکستان کو معرض وجود میں لانے کے لئے قربانیاں دی تھیں۔ چنانچہ یہ قرار پایا ان کے شہری اور سیاسی حقوق ہندوؤں کے حقوق کے برابر ہوں گے۔ اسی طرح ہم پاکستان میں ہندوؤں اور دیگر اقلیتوں کو مساوی شہری اور سیاسی حقوق دیں گے۔ اس بات کا ذکر آپ کو چوہدری محمد علی کی لکھی ہوئی کتاب ’’Emergence of Pakistan‘‘ (ایمرجنس آف پاکستان) میں ملے گا۔ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس ۱۱؍اگست ۱۹۴۷ء کو ہوا تھا۔ جسے قائداعظم نے خطاب کیا تھا۔ وہ ایک نہایت مشکل دور تھا۔ بے شمار مسلمان شہید ہوگئے تھے۔ قربانیاں دی گئی تھیں۔ اس معاہدہ کے باوجود ہندو مسلمان کو ذبح کر رہے تھے۔ جس کا قدرتی طور پر پاکستان میں ردعمل ہوا۔ قائداعظم نے مسلمانوں سے پرامن رہنے کی پرسوز اپیل کی۔ وہ ہمیں اپنے وعدے کا احساس دلا رہے تھے۔ وہ حکومت پاکستان کو اقلیتوں کے مفادات کے تحفظ کی یاد دہانی کرا رہے تھے۔ انہوں نے فرمایا تھا: ’’آپ اپنے مندروں کو جانے میں آزاد ہیں۔ اپنی مسجدوں میں جانے کو آزاد ہیں۔‘‘
    اور مزید فرمایا: ’’وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندو، ہندو نہیں رہے گا اور مسلمان مسلمان نہیں رہے گا۔ مذہبی طور پر نہیں بلکہ سیاسی طور پر یعنی یہ کہ سب کے لئے سیاسی آزادی برابر ہوگی۔‘‘
    گو اس تقریر کو غلط معنی پہنائے گئے اور کہاگیا کہ قائداعظم نے دو قومی نظریہ کو خیرباد کہہ دیا تھا۔ لیکن ایسا نہیں تھا۔ وہ ایک وعدے اور معاہدے کی بات کہہ رہے تھے۔ اس کے بعد بھی قائداعظم نے دو قومی نظریہ کی وکالت کی۔ جس کی وضاحت چوہدری محمد علی نے اپنی کتاب میں کی ہے۔ نظریہ یہ تھا کہ ہم بحیثیت قوم اقلیتوں کے ساتھ مساوی سلوک کے قول کو یاد رکھیں اور دستور میں دئیے گئے حقوق کو یقینی بنائیں۔ جن میں نہ صرف بلا تخصیص ملازمت حاصل کرنے کے حقوق مساوی، قانونی حقوق، قانونی تحفظ کے حقوق شامل ہیں۔ بلکہ اپنے مذہب کے پرچار اور عمل کرنے کے حقوق اور مذہبی اداروں کے تحفظ کے حقوق بھی شامل ہیں۔ یہ بات کمیٹی ازراہ کرم اپنے ذہن میں رکھے گی۔ یہ ان کے حقوق ہیں۔ خواہ آپ انہیں الگ جماعت قرار دیں یا نہ دیں۔ یہ ان کے حقوق ہیں اور آئین ان حقوق کا تحفظ مہیا کرتا ہے اور آئین کے تحفظ اور سربلندی کا حلف معزز اراکین نے لے رکھا ہے۔
    جناب والا! اگر اس قسم کا فیصلہ ہوا تو کئی الجھنیں پیدا ہوں گی۔ یہ بات میں قادیانیوں کے نقطۂ نظر سے کر رہا ہوں۔ وہ کیا کہتا ہے خطوط جو آپ کو ملے ہیں۔ خطوط جو مجھے ملے ہیں۔ ان کو ذہن میں رکھئے۔ وہ کہتا ہے خبردار! آپ مجھے غیرمسلم کہہ دیں گے۔ لیکن بیرونی دنیا میں مجھے مسلمان ہی سمجھا جائے گا۔
    زاہد تنگ نظر نے مجھے کافر جانا
    اور کافر یہ سمجھتا ہے مسلماں ہوں میں
    وہ کہتا ہے اس گنجلک پر غور کریں۔ میں نمازیں پڑھوں گا۔ روزے رکھوں گا۔ میں اسلام کے تمام شعائر پر عمل کروں گا۔ پھر بھی آپ مجھے کافر کہیں گے اور کافر یہ سمجھیں گے کہ میں مسلمان ہوں اور اس سے مشکلات اور الجھنیں پیدا ہوں گی۔ یہ سب کچھ وہ ہے جو وہ (قادیانی) کہتے ہیں اور ان کا نقطۂ نظر پیش کرنا میرا فرض ہے۔
    آخر میں جناب والا! میں اپنی طرف سے تشکر کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔ سب سے پہلے آپ (چیئرمین صاحب) کا اور پھر تمام اراکین کا، جنہوں نے میرا نقطۂ نظر سمجھنے میں میری امداد فرمائی۔ مجھے بالخصوص تو کسی کا ذکر نہیں کرنا چاہئے۔ تاہم پھر بھی میں مولانا ظفر احمد انصاری صاحب کا تہہ دل سے مشکور ہوں جنہوں نے میری بہت امداد فرمائی اور جناب عزیز احمد بھٹی صاحب کا بھی۔ دونوں احباب نے میری بہت اعانت فرمائی۔ درحقیقت میں ہر رکن کا ہی شکرگزار ہوں۔ سب ہی میری معروضات سمجھنے میں میری امداد فرمائی۔ مجھے امید ہے کہ جو گزارشات میں نے پیش کی ہیں وہ کسی قدر کارآمد ہوں گی۔ آپ کا بہت بہت شکریہ!)
    (جناب چیئرمین: جناب اٹارنی جنرل ! میں اپنی طرف سے اور ایوان کمیٹی کے اراکین کی طرف سے آپ کا بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں۔ یہ بات ریکارڈ پر رہے کہ آپ نے کس قدر محنت اور کاوش ان مہینوں میں کی ہے جو کہ نہ صرف کمیٹی کے لئے بلکہ پورے ملک کی خاطر تھی۔ ہم سب اس کے لئے شکر گزار ہیں۔ آپ کا بہت بہت شکریہ! اب میں معززین اراکین سے گذارش کرتا ہوں۔ اگر ان میں سے کوئی صاحب پوچھنا چاہیں)
    مولانا عبدالحق صاحب! آپ تو تقریر کر چکے ہیں۔
    مولانا عبدالحق: اٹارنی جنرل صاحب نے جس فہم وفراست سے اس مسئلے کی توضیح فرمائی ہے، اس کا اجر عظیم اﷲ ان کو عطاء فرمائے۔ اس دینی خدمت کے لئے غیبی نصرت 3049تھی کہ اﷲ تبارک وتعالیٰ نے ہماری ترجمانی یعنی کمیٹی کی ترجمانی کے لئے انہی کو منتخب فرمایا اور انہوں نے اپنے فریضے کو بہت ہی احسن طریقے سے انجام دیا ہے۔
    Mr. Chairman: He has been true to his duties.
    میں نے سب ممبران کی طرف سے شکریہ ادا کر دیا ہے۔ مولانا ظفر احمد انصاری صاحب!

اس صفحے کی تشہیر