1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

اسلامی عقائد اور موجودہ سائنس

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 7, 2015

  1. ‏ مارچ 7, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    اسلامی عقائد اور موجودہ سائنس
    پہلے پہل جو سائنس کا چرچا ہوا اور انگریزوں کی غلامی کا طوق بھی گردنوں میں تھا اور ہرایرے غیرے کو سائنس کے نام سے اسلامی عقائد پر اعتراض کر کے اپنے کو روشن خیال ثابت کرنے کا شوق تھا۔ اس وقت قیامت کے دن ہاتھ پاؤں کی گواہی بھی قابل اعتراض سمجھی جاتی تھی۔ دور سے سننا بھی سمجھ نہ آتا تھا۔ وزن اعمال پر بھی بحث تھی۔ جسم کے ساتھ معراج اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی سے انکار تھا اور ان کے معجزات، مردوں کو زندہ اور بیماروں کو اچھا کرنے پر بھی اعتراض تھا۔ حتیٰ کہ آسمانوں اور فرشتوں کا وجود بھی محل نظر سمجھا جاتا تھا۔ مگر جوں جوں جدید فلسفے نے ترقی کی تمام شبہات خود بخود دور ہوتے چلے گئے۔
    گراموفون کی سوئی اور پلیٹ نے جو انسانی دماغ کی ترجمانی کرتے ہیں۔ ہاتھ پاؤں کی گواہی کو سمجھا دیا جس کا لوہے کی سوئی سے زیادہ انسانی دماغ سے تعلق ہے۔ ریڈیو کی ایجاد نے بھی بہت سے مسائل حل کر دئیے۔ فلموں نے تمام انسانی اعمال کے 2503محفوظ ہونے کا مسئلہ بھی سمجھادیا۔ ڈاکٹروں نے مردہ مینڈک کو زندہ کر کے بھی اپنا کمال دکھایا۔ چاند پر جانے اور مریخ کو راکٹ پہنچانے نے، اوپر جانے کی بات بھی سمجھا دی۔
    ایسے ایسے اجرام (جسموں) کے ثبوت نے جو ہم سے اربوں کھربوں میل سے بھی زیادہ دور ہیں اور تمام کے تمام باقاعدہ حرکت کرتے اور مقررہ راستوں پر چلتے اور باہم ٹکراتے بھی نہیں، نے تمام ان باتوں کو معقول ثابت کر دیا جو غیر معقول معلوم ہو رہی تھیں اور ذرۂ بے مقدار کے تجربے سے روشنی، کڑک اور حرارت کی زبردست پیدائش نے تو طاقت کا معیار ہی بدل دیا۔ ہوائی جہاز کی اڑان نے تخت سلیمانی علیہ السلام کا مسئلہ بھی حل کر دیا۔ اس دریافت نے کہ درخت ہوا میں سے صرف اکسیجن جدا کر کے اپنی غذا بناتے ہیں۔ ہواؤں اور عناصر کے جدا کرنے اور ملانے کا فلسفہ بلکہ تجربہ بھی بتادیا۔ غرضیکہ ایک ناچیز انسان کی مادی توجہات سے وہ کام دیکھے گئے جن کو سو سال پہلے کوئی نہ مانتا۔ حالانکہ یہ تمام امور مادیات سے تعلق رکھتے ہیں اور مادیات سے تعلق رکھنے والی بجلی کا یہ عالم ہے کہ لوہے کی بیس ہزار میل موٹی چادر سے وہ آن کی آن میں گزرسکتی ہے اور روشنی جو اجسام سے تعلق رکھتی ہے وہ منٹوں میں کروڑوں میل کی رفتار سے چلتی ہے۔ اب آپ اس خدائے برتر کی طاقت کا کیا اندازہ لگاسکتے ہیں۔ جس نے ان سب میں یہ یہ قوتیں رکھی ہیں۔ پھر ان قوتوں کو صرف دریافت کیاگیا ہے۔ ان کی حقیقت کسی کو معلوم نہیں ہوسکتی۔ پھر جو رسول اسی خدائے برتر سے سن کر اور معلوم کر کے فرماتے ہیں ان کی بات میں شبہ کرنا کسی صحیح الفطرۃ آدمی کا کام نہیں ہوسکتا۔
    دراصل پہلے کسی کام کا امکان دیکھا جائے آیا ایسا ہونا ممکن ہے؟ گر ممکن ہے تو پھر پاک اور سچے پیغمبروں کی اطلاع پر یقین کیوں نہ کیا جائے جو لاکھ سے زیادہ ہوکر بھی سب متفق ہیں؟

اس صفحے کی تشہیر