1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

آیت خاتم النبیین پر قادیانی اعتراضات (اعتراض نمبر۱۵:وباالآخرۃ ھم یوقنون)

محمدابوبکرصدیق نے 'عقیدہ ختم نبوت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ ستمبر 24, 2014

  1. ‏ ستمبر 24, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    آیت خاتم النبیین پر قادیانی اعتراضات (اعتراض نمبر۱۵:وباالآخرۃ ھم یوقنون)

    قادیانی: اجرائے نبوت کی دلیل میں یہ آیت پیش کرتے ہیں کہ : ’’وباالآخرۃ ھم یوقنون۰ بقرہ ۴‘‘یعنی وہ پچھلی وحی پر ایمان لاتے ہیں۔
    جواب۱:اس جگہ آخرت سے مراد قیامت ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ صراحۃً فرمایا گیا :’’ وان الدار الآخرۃ لھیی الحیوان۰‘‘ آخری زندگی ہی اصل زندگی ہے:’’ خسرالدنیا والآخرۃ۰حج‘‘ دنیا وآخرت میں خائب وخاسر :’’ الآخرۃ اکبر لوکانوا یعلمون۰‘‘ الحاصل قرآن مجید میں لفظ آخرۃ پچاس سے زائد مرتبہ استعمال ہوا ہے اور ہر جگہ مراد جزا اور سزا کا دن ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے تفسیر ابن جریر ص ۸۱ ج اول ‘ درمنشور کی ج اول ص ۲۷ پر ہے :’’ عن ابن عباس ؓ (وبالآخرۃ) ای باالبعث والقیامۃ والجنۃ والنار والحساب والمیزان۰‘‘
    جواب۲:تفسیرمرزا قادیانی
    ’’ طالب نجات وہ ہے جو خاتم النبیین پیغمبر آخر الزماں پر جو کچھ اتار ا گیا ہے ایمان لائے۔۔۔۔ :’’ وبالآخرۃ ھم یوقنون۰‘‘ اور طالب نجات وہ ہے جو پچھلی آنے والی گھڑی یعنی قیامت پر یقین رکھے اور جزا اور سزا مانتا ہو۔ ( الحکم نمبر۳۴‘۳۵‘ ج ۸ ‘ ۱۰ اکتوبر ۱۹۰۴ء ‘ دیکھو خزینۃ العرفان ص ۷۸ ج ۱ مصنفہ مرزا قادیانی)
    اسی طرح دیکھو الحکم نمبر۲ ج۱۰‘ ۱۷ جنوری ۱۹۰۶ء ص ۵کالم نمبر۲‘۳
    اس میں مرزا قادیانی نے :’’ بالآ خرۃ ھم یوقنون۰‘‘ کا ترجمہ :’’ اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔‘‘ کیا ہے ۔ اور پھر لکھتا ہے :’’ قیامت پر یقین رکھتا ہوں۔‘‘
    تفسیر از حکیم نورالدین خلیفہ قادیان
    اور آخرت کی گھڑی پر یقین کرتے ہیں۔ (ضمیمہ بدر مورخہ ۴فروری ۱۹۰۹ئ)
    لہذا مرزائیوں کا :’’وبالآخرۃ ھم یوقنون۰‘‘کا معنی آخری وحی کرنا تحریف وزندقہ ہے۔
    جواب۳ :قادیانی علم ومعرفت سے معراء ہوتے ہیں۔ کیونکہ خود مرزا قادیانی بھی محض جاہل تھا۔ اسے بھی تذکیرو تانیث واحد وجمع کی کوئی تمیز نہ تھی۔ ایسے ہی یہاں بھی ہے۔کہ الآخرۃ تو صیغہ مونث ہے۔ جبکہ لفظ وحی مذکر ہے۔اس کی صفت مونث کیسے ہوگی؟ ۔ دیکھئے قرآن مجید میں ہے :’’ ان الدار الآخرۃ لحیی الحیوان ۰‘‘دیکھئے دار الاخرۃ مونث واقع ہوئی ہے۔ لھییکی مونث ضمیرآئی ہے۔ اور لفظ وحی کے لئے ‘وحی‘ یوحی مذکر کا صیغہ مستعمل ہے۔ تو پھر کوئی سر پھرا الآخرۃ کو آخری وحی قرار دے سکتا ہے؟۔ اسی طرح دوسرے کئی مقامات پر الآخرۃ کا لفظ قیامت کے لئے آیا ہے۔ دیکھئے یہاں صرف قیامت ہی کا تذکرہ ہے۔ جس کے لئے وہی ترکیب لائی گئی ہے۔ قادیانی عقل ودانش اور علم وتمیز سے باالکل معراء ہوتے ہیں۔ وہ اغراض فاسدہ کے حصول کے لئے اندھے بہرے ہوکر ہر قسم کی تحریف وتاویل اور جہالت وحماقت کا ارتکاب کرگزرتے ہیں۔
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر