1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

آخری مجدد اور آخری خلیفہ ، مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کا ایک اور ثبوت ۔

خادمِ اعلیٰ نے 'احادیثِ امام مہدی و مجدد' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ دسمبر 29, 2016

  1. ‏ دسمبر 29, 2016 #1
    خادمِ اعلیٰ

    خادمِ اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ جون 28, 2014
    مراسلے :
    352
    موصول پسندیدگیاں :
    455
    نمبرات :
    63
    پیشہ :
    طالب علم
    مقام سکونت :
    سانگلہ ہل
    آخری مجدد اور آخری خلیفہ ، مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کا ایک اور ثبوت ۔


    دوستو مرزا غلام قادیانی نے اپنے نقلی مسیح ہونے کا ایک اور ناقابل تردید ثبوت بھی خود ہی پیش کیا ہے اور اپنے جھوٹے ہونے پر خود ہی مہر لگا دی ہے ، مرزا قادیانی کی آخری کتابوں میں سے ایک کتاب ہے " حقیقة الوحی " اس میں ایک جگہ اپنے حق میں ظاہر ہونے والے " آسمانی نشانوں " کو گنواتے ہوئے سب سے پہلا نشان یوں لکھا ہے کہ :.
    " پہلا نشان ۔ قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم ان الله یبعث لھذہ الامة علی راؑس کل مائة سنة من یجدّٙد لھا دینھا ۔ رواہ ابو داود یعنی خدا ہر صدی کے سر پر اِس امت کے لیئے ایک شخص مبعوث فرمائے گا جو اُس کے لیئے دین کو تازہ کرے گا اور اب اِس صدی ( چودھویں صدی . ناقل ) کا بیسواں سال جاتا اور ممکن نہیں کہ رسول الله علیہ وسلم کے فرمودہ میں تخلف ہو " ( حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 200 )

    آپ نے دیکھا کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو چودھویں صدی کا مجدد ثابت کرنے کے لیئے ایک حدیث شریف پیش کر رہا ہے جو کہ حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے مروی ہے جن کے بارے مرزا غلام قادیانی کہتا تھا کہ وہ " کم سمجھ ، اچھی درایت نہ رکھنے والا ، غبی " وغیرہ کہتا تھا بہرحال اس کا استدلال یہ ہے کہ یہ تحریر لکھتے وقت تک چودھویں صدی ہجری کے بیس سال گزر چکے ہیں اور ابھی تک کسی نے بھی اس صدی کا مجدد ہونے کا دعویٰ نہیں کیا صرف میں نے کیا ہے لہذا میں چودھویں صدی کا مجدد ہوں ۔

    اپنی اسی بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے اگلے صفحہ پر یہ الفاظ لکھتا ہے ، غور سے پڑھیے گا :.
    " یہ بھی اہل سنت میں متفق علیہ امر ہے کہ آخری مجدد اِس امت کا مسیح موعود ہے جو آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا ۔ اب تنفیح طلب امر یہ ہے کہ یہ آخری زمانہ ہے یا نہیں یہود وانصاری دونوں قومیں اس پر اتفاق رکھتی ہیں کہ یہ آخری زمانہ ہے اگر چاہو تو پوچھ کر دیکھ لو ۔ مٙری پڑ رہی ہے زلزلے آرہے ہیں ۔ ہر ایک قسم کی خارق عادت تباہیاں شروع ہیں پھر کیا یہ آخری زمانہ نہیں ؟ اور صلحاء السلام نے بھی اس زمانہ کو آخری زمانہ اقرار دیا ہے اور چودھویں صدی میں بھی تئیس سال گزر چکے ہیں ۔ پس یہ قوی دلیل اس بات کی ہے کہ یہی وقت مسیح موعود کے ظہور کا وقت ہے اور میں ہی وہ شخص ہوں جس کے دعوے پر پچیس برس گزر گئے اور اب تک زندہ موجود ہوں اور میں ہی وہ ایک ہوں جس نے عیسائیوں اور دوسری قوموں کو خدا کے نشانوں کے ساتھ ملزم کیا ۔ جب تک میرے اس دعویٰ کے مقابل پر انہیں صفات کے ساتھ کوئی دوسرا مدعی پیش نہ کیا جائے تب تک میرا یہ دعویٰ ثابت ہے کہ وہ مسیح موعود جو آخری زمانہ کا مجدد ہے وہ میں ہی ہوں " ( حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 201 )

    ہم یہاں یہ بات نہیں کریں گے کہ اس کتاب کہ پیچھلے صفحے یعنی صفحہ 200 پر مرزا کے مطابق جب وہ یہ تحریر لکھ رہا تھا تو چودھویں صدی کا بیسواں سال چل رہا تھا ، اور اگلے صفحے یعنی 201 پر لکھتا ہے کہ چودھویں صدی میں سے تئیس ( 23 ) سال گزر گئے ہیں ۔ ہم اس بات کو بھی رہنے دیتے ہیں کہ کس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ چودھویں صدی آخری زمانہ یا آخری صدی ہے ؟ ہم مرزا سے یہ بھی نہیں پوچھتے کہ اس نے لکھا کہ " میں ہی وہ شخص ہوں جس کے دعویٰ پر پچیس ( 25 ) برس گزر گئے اور اب تک زندہ موجود ہوں " تو اگر اس نے یہ تحریر لکھنے سے پچیس ( 25 ) برس پہلے مجدد ہونے کا دعویٰ کیا تھا تو اس وقت تو ابھی تیرھویں صدی چل رہی تھی تو وہ چودھویں صدی کا مجدد کیسے ہوا ؟ ہم یہ بھی نہیں پوچھتے کہ مرزا قادیانی سے پہلے تیرہ صدیوں میں ہوئے ان ( 80 ) کے قریب مجددین میں سے جن کے نام قادیانیوں کی کتاب " عسل مصفّیٰ ، صفحہ 116 تا 120 طبع 1901ء " میں لکھے ہیں کس کس نے مجدد ہونے کا دعویٰ کیا ؟ ہمارا مقصد یہاں صرف یہ بتانا ہے کہ مرزا قادیانی کا استدلال کچھ اس طرح بنتا ہے کہ حدیث شریف میں ہے کہ ہر صدی میں ایک مجدد آنا ہے اور میں چودھویں صدی کا مجدد ہوں ، اور اس بات پر اتفاق ہے کہ اس امت کا آخری مجدد مسیح موعود ہوگا جو آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا اور یہ زمانہ یعنی چودھویں صدی آخری زمانہ ہے یعنی مرزا کے بقول وہ اس امت کا آخری مجدد ہے ۔

    اب ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ چودھویں صدی کے بعد کوئی صدی نہ آتی اور دنیا ختم ہوجاتی ، لیکن چودھویں صدی ختم ہوئی ، زمانہ ختم ہوا ، آج پندھرویں صدی کے بھی 35 سال کے قریب گزر چکے ہیں ، ہر صدی کے سر پر مجدد آنے کی جو حدیث شریف مرزا قادیانی نے پیش کی تھی اس میں " علی راؑس کل سنة " یعنی ہر سو سال کے سر پر مجدد آنے کے الفاظ ہیں یعنی جب جب نئی صدی آتی رہے گی مجدد آتے رہیں گے ، حدیث شریف میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ صرف چودھویں صدی تک مجدد آتے رہیں گے اور اس کے بعد یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا ، تو پندھرویں صدی کا شروع ہونا ہی مرزا قادیانی کے اس دعوے کو غلط ثابت کر گیا کہ وہ اس امت کا آخری مجدد ہے کیونکہ اب حدیث شریف کی رُو سے پندرھویں صدی کا بھی کوئی نہ کوئی مجدد ہونا ضروری ہے ، جب مرزا قادیانی کا آخری مجدد ہونے کا دعویٰ غلط ثابت ہوگیا تو چونکہ اس نے خود لکھا تھا کہ " آخری مجدد مسیح موعود " کو ہونا ہے تو اس کا مسیح موعود ہونے کا دعویٰ بھی جھوٹا نکلا ۔

    الله تمام قادیانیوں کو ھدایت نصیب کرے آمین ثم آمین

اس صفحے کی تشہیر