1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

آئے نورانی چھائے نورانی

ضیاء رسول امینی نے 'منظوم کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ ستمبر 2, 2016

  1. ‏ ستمبر 2, 2016 #1
    ضیاء رسول امینی

    ضیاء رسول امینی منتظم اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    آئے نورانی چھائے نورانی
    قہر پھر کذابوں پر غضب کا ڈھائے نورانی
    مسیلمہ کے چیلے اس کے آگے آگے بھاگے ہیں
    ٹوٹ کے بکھرے ایسے جیسے کچے نازک دھاگے ہیں
    ضرب لگائے ایسی وہ کہ مار مکائے نورانی
    آئے نورانی چھائے نورانی
    قہر پھر کذابوں پر غضب کا ڈھائے نورانی
    سامنے آئے اسمبلی میں تو ناصرے مرزے روئے ہیں
    سامنا کرکے ان کا پھر حواس بھی اپنے کھوئے ہیں
    سوار ان کے ذہنوں پہ اب ہوتا جائے نورانی
    آئے نورانی چھائے نورانی
    قہر پھر کذابوں پر غضب کا ڈھائے نورانی
    اعصابوں پہ کافروں کے وہ چوٹیں اس نے ماری ہیں
    وہ ایک ہی ان کذابوں کے تو لاکھوں پہ بھاری ہیں
    ایک ضرب سے ان کی ساری لنکا ڈھائے نورانی
    آئے نورانی چھائے نورانی
    قہر پھر کذابوں پر غضب کا ڈھائے نورانی
    سامنے گر عیاروں کی قطاریں جتنی لمبی ہوں
    کفر کے ٹھیکے داروں کی دیواریں لمبی ہوں
    گرا کے چیر کے ان کو آگے بڑھتا جائے نورانی
    آئے نورانی چھائے نورانی
    قہر پھر کذابوں پر غضب کا ڈھائے نورانی
    بھاگو بھاگو دیکھو وہ شاہ نورانی آئے ہیں
    خلیفے تک ہمارے اس نے اسمبلی میں گرائے ہیں
    خوابوں میں بھی مرزوں کو آ کےڈرائے نورانی
    آئے نورانی چھائے نورانی
    قہر پھر کذابوں پر غضب کا ڈھائے نورانی
    یلاش کے سارے ٹیچی ٹیچی اوندھے منہ گرائے تھے
    مٹھن لال اور خیراتی بھی سارے مار بھگائے تھے
    سات ستمبر آئے جب بھی یاد آئے نورانی
    آئے نورانی چھائے نورانی
    قہر پھر کذابوں پر غضب کا ڈھائے نورانی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    بقلم ضیاء رسول

اس صفحے کی تشہیر