1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

آؤ لوگو سنو کہانی۔ ایک تھا مرزا قادیانی

ضیاء رسول امینی نے 'منظوم کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ نومبر 5, 2014

  1. ‏ نومبر 5, 2014 #1
    ضیاء رسول امینی

    ضیاء رسول امینی منتظم اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    آؤ لوگو سنو کہانی ۔ ایک تھی مرزا قادیانی
    نام تو مردوں والا تھا پر حقیقت میں تھا زنانی
    ہفتے بعد نہاتا تھی باپ سے جوتے کھاتا تھی
    حالت مردمی کالعدم اور بیوی سے گھبراتا تھی
    انسان بھی الٹے سیدھے تھے نام بھی الٹے سیدھے تھے
    لُچھو پھجّاں اور گھسیٹی ایک تھا اسکا ٹیچی ٹیچی
    کام بھی الٹے سیدھے تھے الہام بھی الٹے سیدھے تھے
    کنجروں سے پیسے لیتا تھی سینمے میں بھی جاتا تھی
    حرکتوں سے جب باز نہ آتی شیطان کے ہتھے چڑھتا تھی
    پھر رجولیت کروا کے اس کے بچے پیدا کرتا تھی
    سنو بات اس کمینے کی حاملہ دس مہینے کی
    کوئی مجھ کو دس دو لوگو بندہ تھی یا کھوتا تھی
    کنجروں پھر سے یاریاں تھیں اور 7200 بیماریاں تھی
    اور دن میں سو سو بار یہ موتر پیدا کرتا تھی
    بچپن کے زمانے میں یہ چڑیاں پکڑا کرتا تھی
    بارش کے گندے پانی میں غوطے شوطے کھاتا تھی
    چابیاں اپنے گھر یہ ناڑے سے باندھا کرتا تھی
    جب گھرکوواپس آتاتھی تو چھن چھن چھن چھن کرتا تھی
    گھر کے پیسے چوری کرکے منشی گیری کرتا تھی
    کبھی کبھی یہ من چلی ٹانک وائن بھی پیتا تھی
    پٹھانوں سے گھبراتا تھی اور جوتے الٹے پاتا تھی
    یہ بیگم اپنی سر عام لوگوں کو دکھلاتا تھی
    بٹن الٹے لگاتا تھی غرارے شوق سے پاتا تھی
    میک اپ شیک اپ کرکے یہ یلاش کے آگے جاتا تھی
    ایک ممدی بیگم تھی دل جاں سے اس پہ مرتا تھی
    ہائے اس سے شادی ہوجائے دن رات دعائیں کرتا تھی
    جب آگے سے چھتر پڑتے تو پیشن گوئیاں کرتا تھی
    2 تین سال میں مرنے والا تیس، تیس سال نہ مرتا تھی
    سود کے پیسے کھاتا تھی روزے بھی تڑواتا تھی
    بیمار ہوکے اپنے اوپر نیچے گندا کیچڑ پاتا تھی
    ایک آنکھ سے اندھا تھی اور دوجی آنکھ سے کانا تھی
    دو دو جرابیں پاتا تھی اور چوزوں سے گھبراتا تھی
    بیگم کو کنجر کہتا تھی امت کو بندر کہتا تھی
    کہنے کو یہ مرزا تھی پر پورا ٹٹی خانہ تھی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بقلم ضیاء رسول

    بحوالہ سیرت المہدی
    آخری تدوین : ‏ دسمبر 26, 2016
    • Like Like x 3

اس صفحے کی تشہیر